spot_img

ذات صلة

جمع

ٹیلی کام بل 2026 پر پیپلز پارٹی کی پلوشہ خان کا دوٹوک مؤقف

اسلام آباد : سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی...

کے پی بجٹ 2026-27 : امن و امان کی بہتری کیلیے حکومت کا بڑا فیصلہ

پشاور : وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے اپنی بجٹ...

کے پی بجٹ 2026-27 : تعلیم کیلیے مجموعی بجٹ کتنا ؟

پشاور : کے پی اسمبلی میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا...

وفاق نے خیبرپختونخوا کو کوئی مالی تعاون یا امداد نہیں دی، سہیل آفریدی

پشاور: خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا...

ٹیلی کام بل 2026 پر پیپلز پارٹی کی پلوشہ خان کا دوٹوک مؤقف

اسلام آباد : سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے آئی ٹی کی چیئر پرسن اور پیپلز پارٹی کی سینیٹر پلوشہ خان نے کہا ہے کہ کنیکٹیویٹی کے نام پر عوام کا استحصال نہیں کیا جاسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ماہرین کی رائے کے بغیر اس بل کی منظوری ممکن نہیں میں اس بل پر کھلی عوامی سماعت (پبلک ہیرنگ) کرانا چاہتی ہوں۔

اس حوالے سے نمائندہ اے آّر وائی نیوز  سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دو روز قبل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اجلاس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (تنظیمِ نو) ترمیمی بل پیش کیا گیا۔

بل کی شقوں پر کمیٹی کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ سوال یہ بھی اٹھایا گیا کہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سے منظور ہو کر یہ بل سینیٹ تک کیسے پہنچ گیا۔

اس موقع پر قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن سینیٹر پلوشہ خان نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم نے بل کی شقیں پڑھیں تو ہمارا تاثر یہ تھا کہ یہ صرف فائبرائزیشن کے لیے ہے لیکن یہ اس سے بالکل مختلف نوعیت کا بل نکلا۔

اس بل میں عوام کے حقِ ملکیت پر سنگین ضرب لگتی محسوس ہوئی، میں نے اس بل پر مزید غور کے لیے توسیع مانگی تھی اور مجھے 45 دن کی مہلت مل گئی ہے۔

اگر وزارت خود بھی اسے ناقص بل سمجھتی ہے تو بہتر ہے کہ اسے واپس لے لے۔ اگر یہ بل میری کمیٹی میں ہی رہا تو موجودہ شکل میں میری جماعت اسے ہرگز منظور نہیں کر سکتی۔

میری جماعت کو اس بل پر سنجیدہ تحفظات ہیں، یہ بل قومی اسمبلی سے ضرور منظور ہو کر آیا ہے، لیکن اگر وہاں کسی سے کوئی چیز نظرانداز ہوئی ہے تو سینیٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی نے اسے روک دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ عوامی مفاد کا معاملہ ہے، اس لیے اسے اس شکل میں منظور نہیں کیا جا سکتا۔ سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے اس بل کو رکوانے میں کردار ادا کیا۔

اگر یہ بل میری کمیٹی میں رہا تو میں اس پر عوامی سماعت کرانا چاہوں گی۔ اس بل کے مطابق نجی ہاؤسنگ سوسائٹیوں اور دیگر نجی مقامات کے حقوق تقریباً ختم ہو جاتے ہیں۔ یعنی میرے گھر کے گیٹ سے باہر کا علاقہ پبلک اسپیس تصور کیا جائے گا۔ وہاں متعلقہ ادارے کھمبے نصب کر سکتے ہیں یا دیگر تنصیبات لگا سکتے ہیں۔

فائبرائزیشن کے نام پر ٹیلی کام کمپنیوں کو لوگوں کے گھروں تک غیر محدود رسائی نہیں دی جا سکتی۔ فائبرائزیشن کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی لائن میرے گھر کے اندر سے گزرے اور میں کچھ بھی نہ کر سکوں۔

میرے گھر میں توڑ پھوڑ ہو جائے یا میری نجی ملکیت متاثر ہو اور مجھے اعتراض کا حق بھی نہ ہو، ایسے حالات میں 5 کروڑ روپے تک جرمانے کی شق ضرورت سے زیادہ سخت معلوم ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ آئین سے متصادم کوئی قانون قابل قبول نہیں ہوسکتا۔

سینیٹر پلوشہ خان کے مطابق اس بل کو موجودہ شکل میں منظور نہیں کیا جا سکتا۔ اس بل پر صرف صنعت (انڈسٹری) ہی نہیں بلکہ تمام متعلقہ فریقین (اسٹیک ہولڈرز) سے بھی رائے لی جائے گی۔

تمام آراء حاصل کرنے کے بعد بل کا مکمل جائزہ لیا جائے گا اور ضروری تبدیلیوں کے بعد ہی اسے منظور کیا جائے گا۔

spot_imgspot_img