اسلام آباد : بھارت کی نسبت پاکستان میں بجلی کا استعمال بہت کم کیا جاتا ہے کیونکہ 200یونٹس تک محدود رہنے کیلیے لوگوں نے استری اور فریج کا استعمال کم سے کم کردیا ہے۔
یہ بات گزشتہ روز سابق وفاقی وزیر مفتاح اسماعیل نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام خبر میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی اتنی بجلی استعمال نہیں کرتے جتنی بھارتی عوام کرتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ پاکستانی عوام اب بجلی کے یونٹس 200 سے اوپر جانے سے بچانے کے لیے کپڑوں پر استری تک کم کرچکے ہیں، جبکہ کئی گھرانوں نے فریج کا استعمال بھی محدود کر دیا ہے تاکہ اضافی بجلی بلوں سے بچا جاسکے۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ بجلی کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، تاہم صارفین کو بجلی کے بلوں میں واضح ریلیف نظر نہیں آرہا، اگر واقعی بجلی سستی ہوئی ہوتی تو حکومت عوام کو واضح اعداد و شمار کے ساتھ بتاتی کہ 400 یا 500 یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کے بلوں میں کتنی کمی آئی ہے لیکن ایسی کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ حکومت نے آئی پی پیز (بجلی گھروں) کے ساتھ معاہدوں پر دوبارہ مذاکرات کیے، جس کے نتیجے میں تقریباً 81 پیسے فی یونٹ کمی کی بات کی گئی تھی تاہم یہ کمی عملی طور پر گھریلو صارفین کے بلوں میں نظر نہیں آئی۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں وقتی کمی کی ایک وجہ فیول ایڈجسٹمنٹ بھی ہوتی ہے، کیونکہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتیں کم ہونے پر چند پیسے فی یونٹ ریلیف مل جاتا ہے۔
مثال کے طور پر حالیہ مہینے میں فیول چارجز کی مد میں تقریباً 10 پیسے فی یونٹ کمی ہوئی، مگر بنیادی ٹیرف میں خاطر خواہ کمی نہیں کی گئی۔
ماہرین کے مطابق دو سال قبل سرکلر ڈیٹ کی ری اسٹرکچرنگ کے بعد ہر گھریلو، صنعتی اور کمرشل صارف کے بجلی بل پر 3 روپے 23 پیسے فی یونٹ اضافی بوجھ بھی ڈالا گیا جو آج تک صارفین ادا کر رہے ہیں۔
گفتگو کے دوران ایک 212 یونٹس والے بجلی بل کی مثال دیتے ہوئے کہا گیا کہ صارف سے کم از کم 34 روپے فی یونٹ کے حساب سے رقم وصول کی جا رہی ہے، جس کے باعث متوسط اور غریب طبقہ شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔



