اسلام آباد : وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ 2026-27 کی تیاری میں تاحال حتمی فیصلوں تک نہیں پہنچ سکی، جبکہ بجٹ پیش کرنے کی تاریخ بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام آن مائی راڈار میں سینئر تجزیہ کار کامران خان نے وفاقی بجٹ 2026-27 سے متعلق تفصیلی تجزیہ پیش کیا۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ابتدا میں 5 جون کو بجٹ پیش کرنے کا عندیہ دیا تھا اور قومی اسمبلی کا اجلاس بھی طلب کر لیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں سرکاری ذرائع سے معلوم ہوا کہ بجٹ اب 8یا 12 جون کو پیش کیا جاسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت بجٹ پیش کرنے کی تاریخ طے کرنے میں مشکلات کا شکار ہے تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اصل بجٹ سازی کے عمل میں کس قدر کھینچا تانی جاری ہوگی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آئندہ بجٹ میں بھی ٹیکس دہندگان، بالخصوص تنخواہ دار طبقے، کو کسی بڑی ریلیف کی توقع نہیں۔
خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایک مرتبہ پھر دستاویزی معیشت اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والے افراد پر اضافی بوجھ ڈالا جائے گا جبکہ ٹیکس چوری کرنے والے عناصر بدستور نظام سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔
سینئر تجزیہ کار کے مطابق پاکستان کا موجودہ ٹیکس نظام دنیا کے پیچیدہ ترین نظاموں میں شمار ہوتا ہے، کئی ممالک میں ٹیکس ریٹرن چند منٹوں میں فائل ہو جاتا ہے مگر پاکستان میں تقریباً 140 سے 147صفحات پر مشتمل ٹیکس ریٹرن فارم بھرنا پڑتا ہے، جسے کاروباری طبقہ اور عام شہری غیر ضروری پیچیدگی قرار دیتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال میں ایف بی آر کے لیے 14.13 ٹریلین روپے کا ریونیو ہدف مقرر کیا گیا تھا، جسے بعد میں کم کر کے 13.98 ٹریلین روپے کر دیا گیا، تاہم اس کے باوجود محصولات کا ہدف پھر بھی حاصل نہ ہو سکا، جولائی سے مئی تک ایف بی آر تقریباً 11.23 ٹریلین روپے جمع کرسکا جو مقررہ ہدف سے 864 ارب روپے کم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کو صرف جون کے مہینے میں تقریباً 2.75 ٹریلین روپے جمع کرنے ہوں گے، جسے معاشی حلقے “ناقابل یقین ہدف” قرار دے رہے ہیں۔
گزشتہ چار برسوں کے دوران تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ تقریباً تین گنا بڑھ چکا ہے، مالی سال 2022 میں سیلریڈ کلاس نے 189 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا تھا، جبکہ موجودہ مالی سال میں یہ رقم بڑھ کر تقریباً 700 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس دوران زیادہ سے زیادہ انکم ٹیکس شرح 38.5 فیصد تک جا پہنچی ہے۔
دوسری جانب حکومت کی آمدن کا بڑا ذریعہ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی بن چکی ہے، موجودہ مالی سال کے پہلے 10 ماہ میں حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مد میں تقریباً 1.33 ٹریلین روپے حاصل کیے جبکہ پورے سال کا ہدف 1.4 ٹریلین روپے مقرر ہے، آئندہ مالی سال کے لیے یہ ہدف بڑھا کر 1.7 ٹریلین روپے کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیوی اب براہ راست ٹیکس وصولیوں میں کمی پوری کرنے کا اہم ذریعہ بن چکی ہے، جس کا بوجھ بالآخر عام شہری اور کاروباری طبقہ برداشت کرتا ہے۔
ادھر ایکسپورٹ سیکٹر کو بھی شدید لیکویڈیٹی بحران کا سامنا ہے۔ پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے مطابق تقریباً 327 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز ایف بی آر کے پاس پھنسے ہوئے ہیں جبکہ ایڈوانس ٹیکسز اور سیلز ٹیکس کی مد میں مجموعی طور پر 800 ارب روپے سے زائد سرمایہ مختلف شکلوں میں بلاک ہے، جس سے برآمدات، سرمایہ کاری اور ورکنگ کیپیٹل متاثر ہو رہی ہے۔
اسی تناظر میں اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ نامی تھنک ٹینک نے مالی سال 2026-27 کے لیے متبادل “شیڈو بجٹ” پیش کیا ہے۔
اس میں تجویز دی گئی ہے کہ تنخواہ دار طبقے پر زیادہ سے زیادہ انکم ٹیکس شرح 20 فیصد تک محدود کی جائے، کارپوریٹ ٹیکس 29 فیصد سے کم کر کے 25 فیصد کیا جائے، نان فائلر کی کیٹیگری ختم کی جائے اور جی ایس ٹی مرحلہ وار 18 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد تک لایا جائے۔
تھنک ٹینک نے مزید سفارش کی کہ پاکستان میں 147 صفحات پر مشتمل ٹیکس ریٹرن فارم کی جگہ ایک سادہ “ون پیج ریٹرن” متعارف کرایا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد رضاکارانہ طور پر ٹیکس نظام میں شامل ہوسکیں۔
ماہرین کے مطابق پاکستان کا اصل مسئلہ کم ریونیو نہیں بلکہ ٹیکس بوجھ کی غیر منصفانہ تقسیم ہے، جہاں محدود دستاویزی معیشت ہی مسلسل دباؤ برداشت کر رہی ہے جبکہ غیر دستاویزی معیشت بڑی حد تک ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔



