کراچی : معروف قوال امجد صابری کے قتل میں ملوث دلدار چچا خفیہ دہشت گرد نیٹ ورک کا سرغنہ تھا، واردات کیسے انجام دی گئی؟ تہلکہ خیز کہانی سامنے آگئی۔
لیاقت آباد کی ایک عام سی دکان نکلی ٹارگٹ کلنگ نیٹ ورک کا مرکز تھی، جہاں دہشتگردی میں استعمال ہونے والے اسلحہ کی مرمت وغیرہ کی جاتی تھی۔
مقدمے سے متعلق سامنے آنے والی تفصیلات میں انکشاف ہوا ہے کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کی متعدد وارداتوں کے پیچھے ایک خفیہ نیٹ ورک سرگرم تھا، جس کا مرکز لیاقت آباد میں واقع بظاہر ایک عام سی الیکٹریکل اور پلمبنگ کے سامان کی دکان تھی۔
رپورٹ کے مطابق یہ دکان نہ صرف اسلحے کی مرمت اور تیاری کے لیے استعمال ہوتی تھی بلکہ یہیں مختلف ٹارگٹ کلنگ کی منصوبہ بندی بھی کی جاتی تھی۔
دکان کے اندر ایک خفیہ ورکشاپ قائم تھی جہاں پستول صاف کیے جاتے، فائر پنیں اور اسلحے کے پرزے رکھے جاتے تھے۔
نکتہ کی رپورٹ کے مطابق ’دلدار چچا‘ کے نام سے مشہور شخص دراصل ایک خطرناک دہشت گرد اور بم بنانے کا ماہر تھا، جو کالعدم تنظیموں سے منسلک تھا۔
وہ بظاہر ایک عام مزدور یا پلمبر کا روپ دھارے رکھتا تھا، تاہم بعد ازاں اس پر کراچی ایئرپورٹ حملے، رینجرز پر حملوں اور دیگر دہشت گرد کارروائیوں میں معاونت کے الزامات بھی سامنے آئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ دلدار چچا امجد صابری کے قاتل اسحاق بوبی کا سسر تھا، جبکہ اسحاق بوبی اور آصف کیپری پر امجد صابری کے قتل کا الزام عائد کیا گیا۔
22جون 2016 کو ماہ رمضان المبارک کے دوران امجد صابری اپنے گھر لیاقت آباد سے ایک ٹی وی پروگرام میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے تھے کہ موٹر سائیکل سوار حملہ آوروں نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ ابتدائی طور پر حملہ آور کا پستول جام ہوگیا، تاہم بعد میں 30 بور کے دوسرے پستول سے فائرنگ کرکے امجد صابری کو قتل کردیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق ملزمان انتہائی منظم انداز میں کارروائیاں کرتے تھے اور ہر واردات میں مختلف ہتھیار استعمال کرتے تاکہ ایسا محسوس ہو کہ مختلف گروہ سرگرم ہیں۔
ملزمان پستول کے ساتھ ایک خصوصی پاؤچ بھی لگاتے تھے تاکہ فائرنگ کے بعد خول زمین پر نہ گریں اور پولیس کو کوئی سراغ نہ مل سکے۔
تحقیقات کے دوران سی ٹی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سر توڑ کوششوں کے بعد آصف کیپری اور اسحاق بوبی کو گرفتار کیا۔ سندھ حکومت کے مطابق دونوں ملزمان شہر میں 28 مختلف دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے مقدمات میں ملوث تھے۔
ملزمان نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ انہوں نے امجد صابری کو اپنے انتہا پسند نظریات کی بنیاد پر سافٹ ٹارگٹ سمجھ کر نشانہ بنایا۔
بعد ازاں دلدار چچا بھی 6 مارچ 2017 کو کورنگی مہران ٹاؤن میں سی ٹی ڈی کے ساتھ مبینہ مقابلے میں مارا گیا۔ کارروائی کے دوران اس کے خفیہ ٹھکانے سے بھاری تعداد میں اسلحہ، بارودی مواد اور دھماکا خیز کیمیکل بھی برآمد کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق مختلف وارداتوں میں استعمال ہونے والے اسلحے پر مخصوص نشانات اور نام درج تھے، جبکہ امجد صابری کے قتل میں استعمال ہونے والے پستول پر بھی ان کا نام لکھا ہوا تھا۔
سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے بعد کراچی میں اس گروہ کا مکمل خاتمہ ہوگیا اور اس نوعیت کی فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ میں نمایاں کمی آئی۔



