spot_img

ذات صلة

جمع

امریکی فوج نے ایران پر حملے شروع کردیے

واشنگٹن (10 جون 2026) : آبنائے ہرمز کے قریب...

پاپا رازی کی کیا حقیقت ہے؟ حیران کن کہانی سامنے آگئی

پاپا رازی (Paparazzi)کسی ایک شخص کو نہیں بلکہ ان...

بے رحم شخص کا اونٹنی پر تشدد، دونوں آنکھیں نکال لیں

تھرپارکر : اندرون سندھ کے شہر تھرپارکر میں اونٹنی...

جھانوی کپور نے ’پیڈی‘ کے لیے کتنا معاوضہ لیا؟

بالی ووڈ اداکارہ جھانوی کپور کی فلم ’پیڈی‘ میں...

درزی اور خرد مند ترک

ایک شیریں زبان آدمی رات کو دوستوں کی محفل میں بیٹھ کر درزیوں کے بارے میں مزے دار قصے سنا رہا تھا۔ داستان گو اتنی معلومات رکھتا تھا کہ اچھا خاصا درزی نامہ مرتب ہو سکتا تھا۔

اس آدمی نے درزیوں کی چوری اور مکاری سے گاہکوں کا کپڑا غالب کر دینے کے کئی قصے بیان کر ڈالے۔ جب کافی وقت گزر گیا تو اس مجلس میں موجود ملکِ خطا کا ایک ترک جسے اپنی دانش اور ذہانت پر بڑا ناز تھا کہنے لگا، اس علاقے میں سب سے ماہر درزی کون ہے؟

داستان گو نے کہا: یوں تو ایک سے ایک ماہرِ فن اس شہر کے گلی کوچوں میں موجود ہیں۔ لیکن پورش نامی درزی بڑا فن کار ہے۔ اس کے کاٹے کا منتر ہی نہیں۔ ہاتھ کی صفائی میں ایسا استاد کہ کپڑا تو کپڑا آنکھوں کا کاجل تک چرالے اور چوری کا پتہ نہ لگنے دے۔ ترک کہنے لگا: ” لگا لو مجھ سے شرط میں اس کے پاس کپڑا لے کر جاؤں گا، اور دیکھوں گا کہ وہ کیونکر میری آنکھوں میں دھول جھونک کے کپڑا چراتا ہے۔ میاں وہ اس کا ایک تار بھی غائب نہ کر سکے گا۔

اہلِ مجلس میں سے ایک نے کہا، ارے بھائی، زیادہ جوش میں نہ آ، تجھ سے پہلے بھی بہت سے یہی دعویٰ کرتے آئے اور اس درزی سے چوٹ کھا گئے۔ تو اپنی عقل و خرد پر نہ جا۔ دھوکا کھائے گا۔ محفل برخاست ہونے کے بعد ترک اپنے گھر چلا گیا۔ اس کی رات پیچ و تاب اور فکر و اضطراب میں گزری۔ صبح ہوتے ہی قیمتی اطلس کا کپڑا لیا اور پورش درزی کی دکان پوچھتا ہوا اس تک پہنچ گیا۔

درزی اس ترک گاہک کو دیکھتے ہی نہایت ادب سے کھڑا ہو کر تسلیمات بجا لایا۔
درزی نے خوش اخلاقی اور تعظیم کا ایسا مظاہرہ کیا کہ ترک متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ دل میں کہنے گا۔ بظاہر تو یہ ایسا خائن اور دھوکے باز نہیں نظر آتا، لوگ بھی رائی کا پہاڑ بنا دیتے ہیں۔ یہ سوچ کر اس نے قیمتی کپڑا درزی کے آگے دھر دیا اور کہنے لگا، “اس کی قبا مجھے سی دیں۔”

درزی نے دونوں ہاتھ ادب سے سینے پر باندھے اور بولا: “حضور قبا ایسی سیئوں گا جو نہ صرف آپ کے جسم پر زیب دے گی بلکہ دنیا دیکھے گی۔ اس نے کپڑا ناپا، پھر کاٹنے کے لئے جا بجا اس پر نشان لگانے لگا۔ ساتھ ساتھ ادھر اُدھر کے پُر لطف قصّے چھیٹر دیے۔ ان کے درمیان خوب باتیں ہونے لگیں۔ جب درزی نے اس کی دل چسپی دیکھی تو ایک لطیفہ سنایا جسے سن کر ترک ہنسنے لگا، اس کی آنکھیں ہنسنے سے نم ہوگئیں اور بصارت کچھ دیر کو دھندلا سی گئی۔ یہی وقت تھا کہ درزی نے جھٹ پٹ قینچی سے کپڑا کاٹا اور ایک ٹکڑا ران تلے ایسا دبایا کہ سوائے خدا کی ذات کے اور کوئی نہ دیکھ سکا۔

غرض درزی نے اس پُر لطف داستان گوئی میں اس خرد مند ترک سے اپنا اصل مقصد حاصل کرلیا۔ ترک کو بہت مزہ آرہا تھا۔ اس نے درزی سے کہا ایسی ہی مزے دار کوئی اور بات سناؤ۔ درزی نے دیکھا کہ تیر نشانے پر بیٹھا ہے تو ایک اور قصہ اس سے بھی زیادہ پُر لطف سنایا۔ ترک کا دھیان بٹا اور درزی نے پھر اپنے ہاتھ کی صفائی دکھائی اور قینچی چلا دی۔ وہ ترک ہنسے جارہا تھا اور ہنسی نے اسے عقل سے بیگانہ کردیا تھا۔ اس کی غفلت میں درزی خوب فائدہ اٹھا رہا تھا۔ اس نے مزید قصّے سنائے اور ہر مرتبہ احتیاط کے ساتھ اطلس اڑاتا رہا۔ اس ترک نے درزی کے جال میں‌ پھنس کر انجانے میں گویا ہوش و حواس کو رخصت دے دی اور عقل و خرد کو الوداع کہا، تب درزی نے اس سے کہا، مزید لطیفے کا تقاضا نہ کرنا کہ اب اگر ایسا ہوا تو تمھاری قبا تنگ ہوجائے گی۔

سبق: اس حکایت یا تمثیلی انداز میں ترک دراصل ہماری ذات ہے جو عقل اور اپنے ہوش مند ہونے پر ناز کرتی ہے اور درزی دراصل یہ دنیائے فانی ہے جو ہمیں‌ کھیل تماشوں میں لگائے ہوئے ہے اور اس پر جو قینچی چل رہی ہے دراصل وہ غفلت ہے جو ہم ہنسی مذاق میں لگے ہیں اور وہ کپڑا یعنی اطلس کی قبا اصل میں‌ تقویٰ اور بھلائی اور نیکی ہے جسے ہم فضول مذاق اور قہقہوں میں ٹکڑے ٹکڑے کررہے ہیں یعنی تباہ و برباد کررہے ہیں۔

(مثنوی رومی سے ماخوذ کہانی)

spot_imgspot_img