واشنگٹن : امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے یو ایف اوز (اڑن طشتریوں) سے متعلق نئی خفیہ فائلیں جاری کی ہیں، اپالو الیون کے خلا باز بز ایلڈرین نے خلائی جہاز سے متعلق بڑا انکشاف کردیا۔
امریکا کو جو خلائی مخلوق ملی ہے، وہ ایلیئنز ہیں یا کچھ اور؟ یہ سوال یو ایف اوز خفیہ فائلیں اور ویڈیوز جاری ہونے کے بعد زیرگردش ہے۔
پینٹاگون نے پہلی بار یو ایف اوز (نامعلوم اڑن طشتریوں) سے متعلق خفیہ فائلیں اور ویڈیوز جاری کرنا شروع کر دی ہیں، جن کے بعد سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑگئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق 8 مئی 2026 کو جاری کی گئی دستاویزات میں ایک چمک دار روشنی کے گولے کا ذکر کیا گیا ہے جو خلا میں اچانک دو حصوں میں تقسیم ہوگیا جبکہ اس میں سے مزید چھوٹے اجسام نکلتے بھی دیکھے گئے، ایک رپورٹ میں اس مظہر کو “سپر ہاٹ آرب” قرار دیا گیا ہے۔
یو ایف اوز فائلوں میں 20 سے زائد ویڈیوز بھی شامل ہیں جنہیں جاپان، شام اور شمالی امریکا کے مختلف علاقوں میں سینسرز کے ذریعے ریکارڈ کیا گیا، ان ویڈیوز میں کئی نامعلوم فضائی اجسام دکھائی دیے ہیں جن کی تاحال کوئی واضح سائنسی وضاحت سامنے نہیں آسکی۔
ادھر اپالو الیون مشن کے خلا باز بز ایلڈرین نے بھی ایک پرانا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ چاند کی جانب سفر کے دوران ایک نامعلوم شے ان کے خلائی جہاز کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی جس پر انہوں نے فوری طور پر گراؤنڈ کنٹرول سے رابطہ کیا اور پوچھا کہ کیا قریب کوئی اور راکٹ موجود ہے؟ تاہم جواب نفی میں ملا۔
اسی طرح چاند پر قدم رکھنے والے چھٹے انسان ایڈگر مچل نے بھی ماضی میں کہا تھا کہ ہم کائنات میں اکیلے نہیں ہیں، تاہم امریکی خلائی ادارے ناسا کی جانب سے اب تک کسی ماورائے زمین مخلوق کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یو ایف اوز سے متعلق انکشافات دلچسپی ضرور پیدا کرتے ہیں، لیکن ان اشیا کو خلائی مخلوق قرار دینے کیلئے اب تک کوئی حتمی سائنسی ثبوت موجود نہیں ہیں۔



