کراچی : شہر قائد کے پوش علاقوں اور تعلیمی اداروں میں بڑے پیمانے پر منشیات کی آّن لائن فروخت کا انکشاف ہوا ہے، نیٹ ورک کی سرغنہ ایک لڑکی نکلی۔
کراچی میں سوشل میڈیا، ڈلیوری رائیڈرز اور تعلیمی اداروں تک پھیلے منشیات کے ایک خفیہ نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے، جسے مبینہ طور پر ایک لڑکی ’انمول عرف پنکی‘ چلارہی تھی۔
پولیس حکام کے مطابق انمول کا تعلق پنجاب کے شہر قصور سے بتایا جاتا ہے، تاہم وہ کئی برسوں سے کراچی میں منظم انداز میں منشیات کا کاروبار چلا رہی تھی۔
حیران کن طور پر یہ پہلا موقع نہیں جب وہ قانون کی گرفت میں آئی ہو بلکہ اس سے قبل بھی ساؤتھ زون پولیس اسے گرفتار کرچکی تھی مگر ضمانت پر رہائی کے بعد اس نے دوبارہ اپنا نیٹ ورک فعال کر لیا۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق اس پورے نیٹ ورک کو جدید انداز میں چلایا جا رہا تھا، جہاں واٹس ایپ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے آرڈرز وصول کیے جاتے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ انمول اکیلی نہیں تھی بلکہ اس کے ساتھ عادل عرف وکی، بے بو اور حِرا نامی لڑکیاں بھی اس نیٹ ورک کا حصہ تھیں۔
ذرائع کے مطابق بے بو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر سرگرم ہے، جبکہ حِرا کراچی کے پوش علاقوں میں مساج سینٹر چلاتی تھی، بظاہر عام زندگی گزارنے والے یہ افراد دراصل ایک منظم منشیات نیٹ ورک چلا رہے تھے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ منشیات پنجاب اور خیبرپختونخوا سے کراچی پہنچائی جاتی تھیں جبکہ بین الصوبائی بس سروسز کے بعض ملازمین بھی مبینہ طور پر اس کام میں سہولت کاری کرتے تھے۔
تحقیقات میں مزید انکشاف ہوا ہے کہ نیٹ ورک آن لائن ڈلیوری رائیڈرز کو استعمال کرتا تھا بالکل اسی انداز میں جیسے کھانے یا دیگر اشیاء کی ہوم ڈلیوری کی جاتی ہے، منشیات بھی خفیہ انداز میں گاہکوں تک پہنچائی جاتی تھیں تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔
ذرائع کے مطابق منشیات کے بعض پیکٹس پر ’پنکی‘ کا نام بطور برانڈ درج ہوتا تھا، ساؤتھ زون پولیس اس نیٹ ورک کے کئی ارکان کو پہلے ہی گرفتار کرچکی ہے، جبکہ انمول عرف پنکی کی گرفتاری ایک حساس ادارے کی کارروائی کے دوران عمل میں آئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک کے تمام سہولت کاروں کو بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، تاہم اس واقعے نے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے کہ اگر منشیات فروش نیٹ ورک پوش علاقوں اور تعلیمی اداروں تک رسائی حاصل کرچکے ہیں تو شہری خصوصاً نوجوان کس حد تک محفوظ ہیں؟



