spot_img

ذات صلة

جمع

امریکی فوج نے ایران پر حملے شروع کردیے

واشنگٹن (10 جون 2026) : آبنائے ہرمز کے قریب...

پاپا رازی کی کیا حقیقت ہے؟ حیران کن کہانی سامنے آگئی

پاپا رازی (Paparazzi)کسی ایک شخص کو نہیں بلکہ ان...

بے رحم شخص کا اونٹنی پر تشدد، دونوں آنکھیں نکال لیں

تھرپارکر : اندرون سندھ کے شہر تھرپارکر میں اونٹنی...

جھانوی کپور نے ’پیڈی‘ کے لیے کتنا معاوضہ لیا؟

بالی ووڈ اداکارہ جھانوی کپور کی فلم ’پیڈی‘ میں...

کیا ای بائیکس عام موٹر سائیکلوں کے مقابلے میں سستی اور کم خرچ ہیں؟

پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث پاکستان میں الیکٹرک بائیکس (ای بائیکس) کی طلب اور رجحان میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، شہری یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ ای بائیکس واقعی روایتی موٹر سائیکلوں کے مقابلے میں سستی اور فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہیں یا نہیں؟

بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور روزمرہ سفری اخراجات کے سبب لاکھوں شہریوں کیلیے موٹر سائیکل میں پیٹرول ڈلوانا بہت مشکل دکھائی دے رہا ہے۔

پیٹرول کی فی لیٹر قیمت کیا ہے؟ 

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق 9 مئی 2026 سے پیٹرول کی قیمت میں 14 روپے 92 پیسے اضافے کے بعد 414 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 15روپے فی لیٹر مہنگا ہونے کے بعد نئی قیمت 414 روپے 58 پیسے ہوگئی ہے۔

ای بائیک کے فی کلومیٹر اخراجات اور لاگت

اس حالیہ اضافے کے بعد 10 لیٹر موٹر سائیکل ٹینک فل کروانے پر تقریباً 4 ہزار 150 روپے لاگت آرہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر ایک عام موٹر سائیکل 35 سے 40 کلومیٹر فی لیٹر اوسط دیتی ہے تو فی کلومیٹر صرف ایندھن کی لاگت 10 سے 11 روپے تک بنتی ہے۔

اس کے برعکس ایک ای بائیک کی بیٹری چارج کرنے پر 110 سے 130 روپے تک خرچ آتا ہے، جبکہ ایک چارج پر 60 سے 80 کلومیٹر سفر کیا جاسکتا ہے، اس حساب سے ای بائیک کی فی کلومیٹر لاگت محض ڈیڑھ سے 2 روپے بنتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ 50 کلومیٹر سفر کرنے والا شہری ای بائیک استعمال کرکے ماہانہ 12 سے 13ہزار روپے تک باآسانی بچا سکتا ہے جبکہ ڈلیوری رائیڈرز یا زیادہ سفر کرنے والے افراد کی بچت 25 ہزار روپے ماہانہ تک ہوسکتی ہے۔

اگرچہ ای بائیکس کی ابتدائی قیمت عام موٹر سائیکلوں کے مقابلے میں زیادہ ہے، تاہم موجودہ پیٹرول قیمتوں کے باعث ان پر آنے والی لاگت کم عرصے میں پوری ہوسکتی ہے۔

Really Cost Effective

 

ای بائیک اور عام موٹر سائیکل کی قیمت کا موازنہ

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں عام پیٹرول موٹرسائیکل کی قیمت 1 لاکھ 60 ہزار سے 1 لاکھ 85 ہزار روپے تک ہے جبکہ لیتھیم بیٹری والی ای بائیکس 2 لاکھ 20 ہزار سے 3 لاکھ 50 ہزار روپے تک فروخت ہو رہی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ای بائیک رائیڈر یومیہ 50 کلومیٹر سفر کرتا ہے تو ای بائیک کی اضافی قیمت تقریباً 9 سے 10 ماہ میں پوری ہوسکتی ہے۔

ای بائیکس مالکان اس بات کا بھی خیال رکھیں

دوسری جانب ماہرین خبردار بھی کرتے ہیں کہ ای بائیکس کے کچھ مسائل بھی ہیں، جن میں لوڈشیڈنگ، بیٹری کی محدود عمر، گرمی کے باعث بیٹری کی کارکردگی میں کمی اور ری سیل ویلیو کا مسئلہ شامل ہے۔

بیشتر ای بائیکس کی رفتار 50 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک محدود ہوتی ہے جبکہ ایک چارج پر ان کی اوسط رینج 60 سے 70 کلومیٹر رہتی ہے۔

اس کے علاوہ بیٹری کی تبدیلی بھی ایک بڑا خرچہ ہے، لیتھیم بیٹریاں عموماً ڈھائی سے ساڑھے تین سال تک کارآمد رہتی ہیں، جبکہ ان کی تبدیلی پر 60 ہزار سے ایک لاکھ 20 ہزار روپے تک خرچ آسکتا ہے۔ اس کے باوجود صارفین کے لیے ای بائیکس اس صورتحال میں بھی پیٹرول بائیکس کے مقابلے میں زیادہ بہتر تصور کی جا رہی ہیں۔

یاد رکھیں !! ای بائیکس شہری علاقوں میں روزانہ طویل سفر کرنے والے افراد، طلبہ اور ڈلیوری رائیڈرز کے لیے زیادہ فائدہ مند ہیں جبکہ کم سفر کرنے والے افراد کے لیے روایتی موٹر سائیکل اب بھی نسبتاً سستی ثابت ہوسکتی ہے۔

کیا ای بائیکس کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں؟ 

توانائی ماہرین کے مطابق اگر پیٹرول پر حکومتی لیویز اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا حالیہ دباؤ برقرار رہا تو مستقبل قریب میں ای بائیکس کی مانگ میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

تاہم اس تبدیلی کے لیے پاکستان کو بجلی کے مستحکم نظام، چارجنگ انفرااسٹرکچر اور بہتر سروس نیٹ ورک کی بھی ضرورت ہوگی۔

spot_imgspot_img