spot_img

ذات صلة

جمع

کیا آج اسلام آباد ہائیکورٹ کھلی رہے گی؟

اسلام آباد (21 اپریل 2026): اسلام آباد ہائیکورٹ کھلی...

کراچی : مسلح افراد نے سڑک پربیوی کے سامنے ڈاکٹر کو قتل کردیا

کراچی : شارع فیصل میٹرو پول کے قریب فائرنگ...

موٹاپا اور ذیابیطس کی بنیادی وجوہات کیا ہیں؟ حیران کن انکشافات

کراچی : پاکستان میں موٹاپا اور ذیابیطس کے امراض...

کراچی : خواتین پر چھری سے پراسرار حملے، مجرم آج تک کیوں نہ پکڑا جاسکا؟

کراچی : شہر قائد میں خواتین پر چھری سے حملے کرنے کی وارداتیں سال 2017 میں انتی عام تھیں کہ یہاں کے چند گھنٹوں میں کئی خواتین کو زخمی کردیا جاتا تھا۔

یہ گروہ چھلاوہ تھا یا کچھ اور اس کا آج تک معلوم نہ ہوسکا، اُس سال کراچی ایک ایسے پراسرار مجرم کے خوف میں مبتلا ہوگیا کہ جس نے چند ہی ہفتوں میں شہر کی فضا کو دہشت میں بدل دیا تھا۔

نکتہ ٹرو کرائم کے سینئر نامہ نگار فیصل خان کی رپورٹ کے مطابق یہ نامعلوم حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار ہو کر اچانک نوجوان لڑکیوں اور خواتین پر تیز دھار آلے سے وار کرتا، انہیں زخمی چھوڑ کر لمحوں میں غائب ہو جاتا، حیرت انگیز طور پر آج تک یہ معمہ حل نہیں ہو سکا۔

یہ سلسلہ 25 ستمبر 2017 کو اس وقت شروع ہوا جب گلستانِ جوہر کی رہائشی شاہین بی بی نے پولیس ہیلپ لائن پر اطلاع دی کہ ایک نامعلوم شخص نے ان پر عقب سے حملہ کر کے ٹانگ پر چاقو مارا اور فرار ہوگیا۔

ابتدا میں پولیس نے اسے معمولی نوعیت کا واقعہ سمجھا، مگر چند ہی دنوں میں اسی نوعیت کے حملے تیزی سے رپورٹ ہونا شروع ہوگئے جلد ہی گلستانِ جوہر سے نکل کر یہ وارداتیں شارع فیصل، گلشنِ اقبال، عزیز بھٹی، پی آئی بی کالونی، ڈالمیا اور راشد منہاس روڈ تک پھیل گئیں۔

تمام متاثرہ خواتین کی عمریں عموماً 15 سے 30 برس کے درمیان تھیں اور سب کے بیانات میں ایک ہی بات مشترک تھی کہ حملہ آور ہیلمٹ پہنے موٹر سائیکل سوار نوجوان تھا، جو سنسان گلیوں میں تنہا چلتی خواتین کو نشانہ بناتا۔

ان حملوں نے پورے شہر میں خوف و ہراس کی لہر دوڑا دی، متاثرہ علاقوں میں کئی اسکول بند کردیے گئے، کالجوں اور جامعات میں طالبات کی حاضری نمایاں حد تک کم ہوگئی اور خواتین نے اکیلے گھر سے نکلنا تقریباً ترک کردیا۔

کئی خاندانوں نے اپنی بیٹیوں کو اسکول اور کوچنگ بھیجنا بند کر دیا جبکہ بعض خواتین نے حفاظت کے لیے اپنے پاس چھریاں، ڈنڈے اور برقی شاک ڈیوائسز رکھنا شروع کر دیں۔

پولیس نے شہر بھر میں ناکہ بندی، اسنیپ چیکنگ، اضافی گشت، سادہ لباس اہلکاروں اور خواتین پولیس اہلکاروں کی تعیناتی سمیت تمام ممکنہ اقدامات کیے مگر کوئی واضح سراغ ہاتھ نہ آیا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے مجرم کی گرفتاری پر انعام کا اعلان بھی کیا، لیکن اس کے فوراً بعد حملے مزید بڑھ گئے، جیسے حملہ آور پولیس کو کھلا چیلنج دے رہا ہو۔

تحقیقات کے دوران ایک مشتبہ شخص کو پنجاب کے شہر منڈی بہاؤالدین سے گرفتار کیا گیا، جس پر ماضی میں ساہیوال اور چیچہ وطنی میں اسی نوعیت کے حملوں کا الزام تھا۔ تاہم تفتیش سے ثابت ہوا کہ وہ وارداتوں کے وقت کراچی آیا ہی نہیں تھا، لہٰذا اسے رہا کر دیا گیا۔

اس وقت کے پولیس حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ حملوں کے پیچھے کسی گروہ کا سیاسی مقصد ہو سکتا ہے، مگر یہ دعویٰ بھی مصدقہ ثابت نہ ہو سکا۔

ماہرین نفسیات کے مطابق ممکن ہے حملہ آور کسی نفسیاتی عارضے یا بگڑی ہوئی شخصیت کا شکار ہو، جو خواتین کو نقصان پہنچا کر ذہنی تسکین حاصل کرتا ہو۔

چند ہفتوں بعد یہ حملے اچانک رک گئے، لیکن نہ مجرم پکڑا گیا، نہ مقدمات منطقی انجام تک پہنچ سکے۔ آج بھی کراچی کی فائلوں میں یہ کیس ایک پراسرار معمہ بن کر موجود ہے ایک ایسا معمہ، جس کا جواب شاید کبھی نہ مل سکے۔

spot_imgspot_img