کراچی: 29 ارب روپے کی ایرانی کرنسی اسمگلنگ میں گرفتار ملزمان نے دوران تفتیش اہم انکشافات کردیے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق گرفتار ملزمان نے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا کہ کوئٹہ ایئرپورٹ روڈ سے ایرانی کرنسی کی ڈلیوری لی تھی اور کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ پہنچ کر ڈلیور کرنا تھی جہاں ڈیلر نے خود رابطہ کرنا تھا۔
ملزم نے بتایا کہ 2 لاکھ پاکستانی روپے میں کرنسی اسمگلنگ کی ڈلیوری طے ہوئی تھی، اسمگلر نے رشتے دار خواتین کو کراچی میں چیک اپ کا بہانہ بنانے کا کہا تھا، خواتین میں اسمگلر کی ماں، بیوی اور رشتے دار شامل ہیں۔
یہ پڑھیں: ایران سے پاکستان اربوں ایرانی ریال اسمگل کرنے کی بڑی کوشش ناکام
گرفتار ملزم کے مطابق امریکا ایران جنگ رکنے کے بعد منی ایکسچینج پر ایرانی کرنسی کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے، دونوں گاڑیاں بلوچستان سے ایک ساتھ کراچی آرہی تھیں، مختلف راستوں سے ہوتے ہوئے کوئٹہ سے کراچی پہنچے کسی نے ٹائر چیک نہیں کیے۔
واضح رہے کہ موچکو پولیس نے 29 ارب 69 کروڑ ایرانی ریال کی اسمگلنگ ناکام بنائی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گروہ نے مہارت سے ٹائروں میں کرنسی کے بنڈل چھپا رکھے تھے، ملزمان کو مزید تحقیقات کے لیے ایف آئی اے کے حوالے کردیا گیا ہے۔



