پی ایس ایل کے نوجوان کرکٹر سمیر منہاس اور عرفات منہاس کے والد نے بچوں کی جدوجہد کی کہانی بیان کردی۔
پاکستان سپر لیگ کے آفیشل انسٹاگرام پر سمیر کے والد کی ویڈیو شیئر کی گئی جس میں انہوں نے بیٹوں کو کرکٹ سکھانے میں اپنی اور اہلیہ کی قربانیوں کا ذکر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرے دونوں بچے گھر میں پلاسٹک کے انڈے سے کھیل رہے ہوتے تھے آہستہ آہستہ ان کے کھیل میں بہتری آتی گئی، میں ان کی آنکھیں دیکھ رہا تو جو بال کو پک کرنے، ڈرائیو اور شاٹس کھیلنے کی بہت اچھی تھی، یکدم خیال آیا کہ ان میں کوئی چیز ہے بچے ایسے نہیں ہوتے۔
منہاس نے کہا کہ ان دونوں کو میں میدان میں لے گیا، ٹریننگ شروع کروائی پھر کلب جوائن کروایا، ان کے لیے پی سی بی لیول ٹو کے کوچ جن کا نام طاہر محمود فیض ہے ان کی خدمات حاصل کیں اور انہی کی وجہ سے وہ میرے بچے اس مقام پر پہنچے ہیں۔
View this post on Instagram
انہوں نے کہا کہ مجھے چیلنجز یہ تھے کہ میرا کاروبار میں مسائل ہوتے تھے کیونکہ ان کے کہیں میچ ہوتے تھے چاہے وہ ملتان سے 100 یا 200 کلو میٹر دور ہے انہیں وہاں لے کر جاتا پھر واپس لے کر آتا تھا، اہلیہ نے بھی میرا بہت ساتھ دیا، ہم گراؤنڈ میں ان کے میچز دیکھنے کے لیے گھنٹوں بیٹھے رہتے تھے جبکہ ان کے ریجن میں نام آئے تو ان کے لیے وہیں رہتے اور دیکھ بھال کرتے تھے۔
یہ پڑھیں: سمیر منہاس نے بلے سے اور والد نے کیمرے سے میدان میں اپنا فرض نبھایا!
سمیر اور عرفات کے والد نے کہا کہ شرارتی سب بچے ہوتے ہیں ان میں عرفات بہت زیادہ شرارتی اور سمیر اتنا ہی کول تھا، سمیر کو ہم دیکھتے تھے وہ بہت ہی ٹھنڈا اور خاموش رہتا تھا اتنی شرارتیں نہیں کرتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے بچوں کی پڑھائی، کھانا پینا، کھیل کا ایک وقت مقرر کیا کیونکہ مجھے انہیں آگے لمبی کرکٹ کے لیے لے کر جانا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ انشا اللہ جس طرح کی ان کارکردگی ہے یہ دونوں بھائی پاکستان کی نمائندگی کریں گے اور میری خواہش ہے کہ یہ ملک کو اتنی خوشیاں دیں جو لوگ تھوڑے سے اس کرکٹ کی وجہ سے ناراض ہوئے ہیں، وہ دوبارہ گراؤنڈ کی طرف آئیں اور میچز دیکھیں۔



