امریکا ایران سے اتنا خوفزدہ کیوں ہے کیا یہ ڈر جوہری توانائی کا ہے یا پھر کچھ اور ہے جس نے ٹرمپ کی نیندیں اڑا دی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں ایکس پر لکھا کہ ایران کو جہنم پہنچانے کی دھمکی اس سے پہلے بھی وہ ایران کو اسی قسم کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ انہیں اتنی مایوسی کس بات کی ہے؟
ایران پہلے ہی امریکی پابندیوں کی وجہ سے ڈالر سسٹم سے کافی حد تک باہر ہے، اب وہ اس سسٹم کو فالو نہیں بلکہ چیلنج کررہے ہیں اور یہ بات امریکا اور صدر ٹرمپ سے ہضم نہیں ہورہی ہے۔
ایران چاہتا ہے کہ جو 20 فیصد آئل آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے وہ ڈالر کے بجائے، یورو، یوآن یا پھر ریال میں ٹریڈ ہو، یعنی جو سسٹم اتنے سالوں سے چلتا آرہا ہے اسے بدل دیا جائے۔
اگر ایران نے ایسا کردیا تو اس کا اثر امریکا کی اکانومی کے لیے ایٹم بم ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ جو فائدہ ڈالر سسٹم کی وجہ سے امریکا کو ملتا تھا وہ آہستہ آہستہ کم ہوجائے گا، مثال کے طور اگر امریکا کو 100 روپے ملتے تھے تو ایران اس کا 20 فیصد کاٹ لے گا۔
امریکا جو ابھی 39 ٹریلین کے قرضے سے پریشان ہے اس کے لیے پریشانیاں مزید بڑھ جائیں گی۔
پیٹرو ڈالر سسٹم کیا ہے؟ یہ امریکی اکانومی کی ریڑھ کی ہڈی کیسے بنا؟
1974 میں امریکا نے آئل پروڈیوس کرنے والے ممالک کے ساتھ ڈیل کی جس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئل صرف ڈالر میں ہی ٹریڈ ہوگا جسے ہم پیٹرو ڈالر سسٹم کہتے ہیں۔
اگر کسی ملک کو آئل چاہیے تو اسے پہلے ڈالر کی ضرورت ہوگی اور ڈالر کی ڈیمانڈ کی امریکا کی اکانومی کو مضبوط کرے گی اب یہی سسٹم چیلنج ہورہا ہے۔
ایران کسی ملک کو آئل دیتا ہے اور اس کی ادائیگی ڈالر کے بجائے کسی دوسری کرنسی میں کی جاتی ہے تو یہ صرف کرنسی کی تبدیلی نہیں بلکہ سسٹم کو نشانہ بنانا ہوگا اب تو ایران نے آبنائے ہرمز کا ٹول ٹیکس بھی ڈالر میں لینے سے انکار کردیا ہے۔
ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ سسٹم پہلے ہی تباہ ہوچکا ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ یورپ اور دوسرے ممالک یہ قدم اٹھائیں گے یا نہیں۔



