پاکستانی ایڈونچر ایتھلیٹ ثمر خان نے 300 کلومیٹر طویل فیل راؤن پولر چیلنج کامیابی سے مکمل کر کے آرکٹک کی برفانی مہم سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون بن کر تاریخ رقم کردی۔
انہوں نے شدید سردی، ذہنی دباؤ اور برفانی کتوں کی سلیجنگ کے ذریعے یہ مشکل مہم مکمل کی، اس سے قبل انہیں ویزا کے مسائل کا سامنا بھی رہا۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں ایتھلیٹ ثمر خان نے خصوصی شرکت کی اور ناظرین کو اپنے کارنامے سے متعلق آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ برفانی مہم سوئیڈن سے شروع ہوکر ناروے میں اختتام پذیر ہوئی تھی، جہاں شدید سردی، منفی درجہ حرارت، برفانی طوفانوں اور تیز ہواؤں نے شرکاء کا سخت امتحان لیا۔
ثمر خان نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ یہ مہم نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی طور پر بھی انتہائی کٹھن تھی۔ درجہ حرارت منفی 20 سے 30 ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا تھا اور شرکاء کو روزانہ 60 سے 70 کلومیٹر تک برف پر سفر کرنا پڑتا تھا۔
برفانی کتوں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اس مہم کا سب سے منفرد اور مشکل حصہ ڈاگ سلیڈ یعنی کتوں کی مدد سے برف پر سفر کرنا تھا۔
اس سلسلے میں ہرایتھلیٹ کو 6 طاقتور اسکینڈینیوین کتوں کی ایک ٹیم دی گئی، جنہیں سنبھالنا، انہیں مانوس کرنا کھلانا پلانا اور روزانہ سفر کے لیے تیار کرنا ایک بڑا چیلنج تھا۔
ثمر خان کے مطابق ابتدائی دنوں میں انہیں ان کتوں کو کنٹرول کرنے میں مشکلات پیش آئیں، تاہم تربیت اور مسلسل محنت کے ذریعے وہ اس قابل ہوئیں کہ روزانہ طویل فاصلے طے کرسکیں۔
انہوں نے بتایا کہ برفانی طوفانوں اور تیز ہواؤں کے دوران ڈوگ سلیڈ چلانا نہایت خطرناک ہوتا تھا اور کئی بار حادثات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس مہم کے لیے وہ سال بھر سخت ٹریننگ کرتی رہی ہیں، جس میں جسمانی فٹنس، ویٹ ٹریننگ اور سرد ماحول میں کام کرنے کی مشق شامل تھی۔
ثمر خان نے اس کامیابی کو پاکستانی خواتین کے لیے ایک حوصلہ افزا مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایڈونچر اسپورٹس کو پاکستان میں بطور پیشہ اپنانے کی ضرورت ہے۔



