(1 اپریل 2026): امریکا کی بحریہ کے پاس ٹوماہاک کروز میزائل کا کم از کم تین ماہ کا ذخیرہ باقی ہے جبکہ مشرق وسطیٰ میں جنگ ختم ہونے کے امکانات اب بھی کم ہیں۔
ایران کی فارس نیوز ایجنسی نے ایک رپورٹ شائع کی جس کے مطابق امریکی بحریہ کے بجٹ دستاویزات کے حوالے سے اسپوتنک کے نامہ نگار نے تجزیہ کیا کہ امریکا کے پاس ٹوماہاک کروز میزائل کا کم از کم تین ماہ کا ذخیرہ باقی ہے۔
اسٹریٹجک انوینٹری کا مقررہ ہدف 3992 یونٹس ہے جو کہ جنگ کے آغاز سے اب تک ریکارڈ کی گئی 850 میزائل ماہانہ خرچ ہونے کی شرح کے مقابلے میں ایک بڑا ذخیرہ فراہم کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی فوج میں اہلکاروں کی شدید کمی کا سامنا
2019 سے اب تک امریکا نے باقاعدہ ری سرٹیفیکیشن اور جدید کاری کے ذریعے اپنے ٹوماہاک اسلحہ خانے کو برقرار رکھا ہے جس کے تحت ہر سال تقریباً 250 میزائل کی سروس لائف میں اضافہ کیا جاتا ہے، پیداوار شروع ہونے سے اب تک مجموعی طور پر 9240 میزائل حاصل کیے گئے۔
28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل نے ایران میں تہران سمیت مختلف اہداف پر حملے کیے جن سے نقصان ہوا اور شہری ہلاکتیں ہوئیں۔ ایران نے اس کے جواب میں مقبوضہ اسرائیلی علاقوں اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔
امریکا نے ایرانی مسلح افواج کے خلاف جنگی جہازوں سے ٹوماہاک میزائل کے ذریعے حملے کیے، اس کے علاوہ ڈرونز اور ہائی مارز ملٹی پل لانچ راکٹ سسٹم بھی استعمال کیے گئے۔
اس کارروائی میں گائیڈڈ میزائل شکن بحری جہاز USS Spruance، USS Frank E. Petersen اور USS Milius نے حصہ لیا، مجموعی طور پر امریکی بحری جہازوں نے جنگ کے پہلے دو دنوں میں 200 تک ٹوماہاک میزائل فائر کیے۔



