spot_img

ذات صلة

جمع

ایلومیناٹی، بال اور فری میسن کیا ہیں؟ خوفناک سازش یا کچھ اور؟

ایلومیناٹی ایک ایسا نام ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ حقیقت اور افسانے کے درمیان الجھ کر ایک معمہ بن چکا ہے۔ تاریخی طور پر یہ نام ایک خفیہ سوسائٹی کے لیے استعمال ہوتا تھا جبکہ آج کل اسے زیادہ تر سازشی نظریات سے جوڑا جاتا ہے۔

اس حوالے سے اے آر وائی پوڈ کاسٹ میں معروف یوٹیوبر محمد علی سے میزبان ایاز سموں نے بال اور ایلومیناٹی اور فری میسن سے متعلق تفصیلی گفتگو کی۔

ایاز سموں کا سوال تھا کہ اسلام عیسائیت اور یہودیت یہ تین بڑے مذاہب جو اس پوری صورتحال یا تنازعے میں نمایاں نظر آتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ خفیہ سوسائٹیز کا بھی ذکر ہوتا ہے ان میں خاص طور پر ایلومیناٹی اور فری میسنز کے نام لیے جاتے ہیں۔ اس کا کیا تصور ہے؟

ایلومیناٹی اور فری میسن

اس کے جواب میں محمد علی نے کہا کہ ایلومیناٹی اور فری میسن محض نام ہیں، ایسی خفیہ سوسائٹیز ہر دور میں مختلف ناموں سے موجود رہی ہیں، پہلے انہیں نائٹس ٹیمپلر کہا جاتا تھا، پھر وقت کے ساتھ یہ نام بدل کر فری میسنز اور ایلومیناٹی ہوگئے۔

انہوں نے بتایا کہ اگر تاریخی جائزہ لیا جائے تو فرعون کے دور سے ہی کالا جادو اور قبالہ جیسے نظریات موجود رہے ہیں۔

حضرت سلیمانؑ کے زمانے میں بھی اس طرح کے عقائد کا ذکر ملتا ہے، جن کی قرآن میں تردید کی گئی ہے۔ واضح کیا گیا کہ حضرت سلیمانؑ نے کفر نہیں کیا بلکہ یہ شیطانی اعمال تھے جنہیں بعض لوگ ان سے منسوب کرتے تھے۔

محمد علی نے کہا کہ یہ سلسلہ آج تک کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے، دور جدید میں فری میسن اور ایلومیناٹی جیسے نام سامنے آتے ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ خفیہ طاقتوں، کالے جادو یا شیطانی نظریات سے جڑے ہوئے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ بعض حلقوں میں سیٹنزم یعنی شیطان پرستی اور اندھیری طاقتوں کے ساتھ تعلقات کی باتیں بھی کی جاتی ہیں، حتیٰ کہ بعض غیر مصدقہ دعوؤں میں انسانی قربانیوں تک کا ذکر ملتا ہے اگرچہ ان دعوؤں کی کوئی صداقت موجود نہیں۔

بال کیا ہے؟

انہوں نے بتایا کہ ماضی میں “بال” نامی ایک قدیم دیوتا کا ذکر بھی کیا جاتا ہے، جس کی شکل دیوہیکل بکرے سے ملتی جلتی ہے جسے بابل کے علاقے میں پوجا جاتا تھا اور اس سے متعلق سخت عقائد اور رسومات پائی جاتی تھیں۔

فری میسن کیا ہے؟

فری میسن ایک بین الاقوامی یہودی تنظیم ہے، جس کا مقصد دنیا میں دجال اور دجالی ریاست کی راہ ہموار کرنا ہے۔ اس میں 20برس سے بڑی عمر کے افراد ممبر بنائے جاتے ہیں، اس کے پیروکار دنیا کے تمام ممالک میں موجود ہیں، صرف امریکا میں ان کی تعداد 80 لاکھ سے زائد ہے۔

بظاہر یہ ایک خفیہ سلسلہِ اخوت ہے، یہ تنظیم سوشل رابطوں اور فلاحی کاموں، اسپتالوں، خیراتی و فلاحی اداروں اور تعلیمی اداروں کی فلاح بہبود کیلیے قائم کی گئی تھی۔ اس تنظیم کے پاس لاکھوں نہیں کھربوں ڈالر کے فنڈز ہیں۔

لیکن حقیقت میں ان خیراتی اور فلاحی اداروں کی آڑ میں مسلم دشمنی مقاصد کار فرما ہیں اور مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا اس کے اولین مقاصد میں سے ہے، اس کا ہیڈ آفس اب بھی برطانیہ میں ہی ہے۔

spot_imgspot_img