spot_img

ذات صلة

جمع

نمک ڈالنے سے درخت کیا زیادہ پھل دیتا ہے؟ حقیقت سامنے آگئی

نمک انسانوں اور جانوروں کی صحت کیلیے خوراک کا لازمی جز تو ہے ہی لیکن ساتھ ہی پھل دار درخت پودوں کی نشونما کیلیے بھی انتہائی کارآمد ہے۔

اے آر وائی ڈیجیٹل کے پروگرام گڈ مارننگ پاکستان میں ہارٹی کلچر سوسائٹی آف پاکستان کے ترجمان رفیع الحق نے پودوں میں نمک کے استعمال اور اس کے فوائد اور نقصانات سے آگاہ کیا۔

پروگرام میں موجود معروف اداکارہ فضیلہ قیصر نے ناریل کی کاشت سے متعلق ایک دلچسپ تجربہ بیان کیا کہ ان کے گھر میں ناریل کے درخت خصوصاً گرین اور ملائیشین (گولڈن) اقسام میں موجود ہیں، کسی کے مشورے پر  ہم نے درخت کے اطراف نمک ڈالنے کا تجربہ کیا تھا جس کے بعد پھل کی پیداوار بہتر ہونا شروع ہوگئی، نمک ڈالنے کے بعد درختوں میں پھل کا سائز اور معیار بہتر ہوا۔

اس حوالے سے رفیع الحق نے بتایا کہ اس کی اصل وجہ نمک نہیں بلکہ زمین میں موجود غذائی کمی (نیوٹریشن ڈیفیشینسی) ہے، خاص طور پر پوٹاشیم کی کمی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بدین کے ایک فارم میں تقریباً 1200 پودے لگائے تھے لیکن ان میں پھل نہیں لگ رہا تھا یا لگ کر گرجاتا تھا، جس کی بنیادی وجہ پوٹاشیم کی کمی نکلی۔

انہوں نے کہا کہ نمک سوڈیم اور کلورائیڈ سے بھرپور ایک ایسا ٹانک ہے جس میں بہت زیادہ فائدے پنہاں ہیں، نمکیات والی زمین میں سوڈیم کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جبکہ پودوں اور درختوں کو بہتر نشوونما کے لیے پوٹاشیم درکار ہوتا ہے۔

بعض صورتوں میں جڑوں میں نمک ڈالنے سے وقتی طور پر کیمیائی توازن میں تبدیلی تو آتی ہے جس سے پودے کا ردعمل بہتر ہو سکتا ہے تاہم یہ مستقل حل نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پودوں کے لیے نمک (خاص طور پر سوڈیم اور کلورائیڈ) بہت ضروری ہے، جو ان کے خلیات کے دباؤ کو برقرار رکھنے، جڑوں کی نشوونما اور پانی کے اخراج کو کنٹرول کرنے میں مدد کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ نمک مٹی میں پودوں کو برداشت کرنے کی طاقت بھی دیتا ہے لیکن اس کی زیادہ مقدار پودے کو جلا بھی سکتی ہے۔ پودوں کی نشوونما کے لیے مٹی کا صحیح انتخاب، جڑوں کے لیے نرم مٹی اور مناسب غذائی اجزاء کی فراہمی نہایت ضروری ہے۔

spot_imgspot_img