spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

بھارت سے چھوڑے گئے پانی کے ریلے میں کرتارپور گردوارہ ڈوب گیا

ننکانہ صاحب : بھارت سے چھوڑے گئے پانی کے ریلے میں کرتارپور گردوارہ ڈوب گیا دربار باباگرونانک کی عمارت میں 6 فٹ تک پانی داخل ہوا، جس سے 200 سے 300 افراد پھنس گئے۔

تفصیلات کے مطابق پنجاب میں شدید سیلاب کے پیش نظر راوی دریا میں بھارت سے چھوڑا گیا پانی دربار بابا گرو نانک میں داخل ہو گیا، جس کے نتیجے میں دربار کی عمارت میں 6 فٹ تک پانی بھر گیا۔

دریاوں میں پانی کی سطح بڑھنے کے باعث کرتارپور کے تمام علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں اور تقریباً 200 سے 300 افراد محصور ہو گئے ہیں۔

حکام نے بتایا کہ سیلابی پانی کارتارپور کے گھروں اور کھیتوں میں داخل ہو چکا ہے ، جس کے بعد مقامی انتظامیہ نے ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے اور کم بلندی والے علاقوں کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے ایمرجنسی آپریشنز شروع کر دیے ہیں جبکہ دریا کے کنارے رہائش پذیر افراد کو اضافی احتیاط کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پاکستان آرمی کی ٹیمیں مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر محصور افراد کی محفوظ مقامات پر منتقلی کے لیے ریسکیو آپریشنز کر رہی ہیں۔

یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب راوی دریا کے قریب حفاظتی بند ٹوٹ گیا اور پانی کی بڑھتی ہوئی سطح کی وجہ سے نارووال شکرگڑھ روڈ بند ہوگئی، جس سے اہم راستے بلاک ہو گئے اور سیلابی پانی تیزی سے پھیل گیا۔

حکام کا مزید کہنا تھا کہ بھیکو چک کے قریب ڈیم کے ٹوٹنے کی وجہ راوی دریا میں پانی کی غیر معمولی شدت ہے، جہاں شکرگڑھ کے کوٹ نیناں پر 250,000 سے زائد کیوسک پانی کا بہاؤ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں بھیکو چک، نوشہرہ، نوگازہ، منڈیکھیل، بھاجنا اور کارتارپور مین ہائی وے سمیت کئی علاقے زیرِ آب آ گئے ہیں۔

حکام نے سیلابی علاقوں میں رہائشیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ الرٹ رہیں اور ریسکیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں، کیونکہ آنے والے دنوں میں مزید بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مون سون کی بارشیں اور دریاوں میں اوپر سے پانی کی آمد کے باعث پنجاب کے دیگر اضلاع میں بھی سیلاب کا خطرہ بڑھ رہا ہے، جس کے پیش نظر ایمرجنسی انتظامات میں تیزی لائی جا رہی ہے۔

spot_imgspot_img