وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ کوئی بھی حکومت عوام پر غیر ضروری بوجھ نہیں ڈالنا چاہتی، عالمی سطح پر قیمت بڑھتی ہے تو پھر ہمیں بھی بڑھانا پڑتی ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام اعتراض ہے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف وزیراعلیٰ کے پی ہی نہیں بلکہ ہم سب یہی چاہتے ہیں کہ عوام پر مالی بوجھ نہ پڑے۔
وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ ملکی توانائی کی 90 فیصد ضروریات امپورٹ کرتے ہیں اور جب عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو ہمیں بھی بجٹ میں یا پھر فوری قیمتیں بڑھانا پڑتی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں علی پرویز ملک کا کہنا تھا کہ حکومت اگر یہ دونوں اقدامات نہیں کرتی تو ایندھن کی فراہمی کم ہوجائے گی، آبنائے ہرمز بند ہونے سے پاکستان میں اب 20 دن میں ایندھن پہنچے گا۔ ،
انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبے بہت جلد اپنے اخراجات کم کرتے ہوئے نظرآئیں گے، جنگی ماحول میں یہ غیریقینی صورتحال ہے کیونکہ جنگ ختم ہونے کی تاریخ کسی کو نہیں پتہ،
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے سابق وزیر خزانہ سے متعلق ایک سوال پر کہا کہ مفتاح اسماعیل قابل احترام ہیں وہ موجودہ تمام صورتحال کو بخوبی سمجھتے ہیں، تاہم ایندھن کی قیمتوں پر کوئی بھی سیاست کرے تو دکھ ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے لائسنس کا تقاضا ہے کہ انہیں 22 دن کا اسٹاک رکھنا ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا کمپنیوں کے منافع کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
خطے کی صورتحال سب کو پتہ ہے، پیٹرول، ڈیزل کی قیمتوں پر سیاست سے گریز کرنا چاہیے، خطے کی صورتحال کو سمجھ کر لوگوں کو گمراہ نہ کیا جائے، سپلائی چین سپورٹ کیلئے پرائیوٹ سیکٹر کو جو تحفظ دیا جارہا ہے اس میں کوئی کرپشن نہیں۔
صورتحال مزید خراب ہوئی تو متبادل ذرائع کی طرف جانا پڑے گا جو بہت مہنگا پڑے گا، سپلائی چین کیلئے متبادل راستے تو موجود ہیں مگر قیمتوں میں فرق آسکتا ہے، حکومت سنجیدگی کے ساتھ ہر سطح پر قومی ایمرجنسی کے طورپر اقدامات کررہی ہے۔



