spot_img

ذات صلة

جمع

معدے کے تیزاب کی چونکا دینے والی طاقت

انسانی جسم میں معدہ عام طور پر ہائیڈروکلورک ایسڈ (تیزاب)کو خارج کرتا ہے جو استعمال شدہ کھانے کو توڑنے اور ہاضمے میں مدد کے لیے درکار ہوتا ہے۔

معدے کی تیزابیت، جلن، یا ایسڈیٹی ہاضمہ کے سب سے عام مسائل میں سے ایک ہے، جس کا سامنا زیادہ تر لوگوں کو کرنا پڑتا ہے۔ یہ بیماری سننے میں تو ایک معمولی مسئلہ لگتی ہے مگر جس شخص کو اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کے لیے یہ انتہائی بے چینی کا باعث بنتی ہے۔

معدے کی تیزابیت زیادہ تر صورتوں میں جن علامات سے ظاہر ہوتی ہے ان میں بدہضمی، سینے کی جلن، معدے کی سوزش اور معدے میں السر شامل ہوسکتے ہیں۔

معدے کا تیزاب (ہائیڈرو کلورک ایسڈ، ایچ سی ون) انتہائی طاقتور ہوتا ہے، جس کی پی ایچ ون سطح ڈیڑھ سے ساڑھے تین کے درمیان ہوتی ہے۔

اس کی طاقت اور تیزی کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ یہ مضبوط ایسڈ دھاتوں کو پگھلاسکتا ہے لیکن قدرتی طور پر معدے کی اندرونی تہہ اسے نقصان پہنچانے سے روکتی ہے۔ یہ خوراک کو ہضم کرنے اور نقصان دہ بیکٹیریا کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

stomach acid

تیزابیت ایک ایسی حالت ہے جو اس وقت ہوتی ہے جب معدے میں گیسٹرک ایسڈ کی پیداوار معمول سے زیادہ ہو، یہ معدے اور اوپری آنت میں تیزابی رطوبتوں کے عدم توازن کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔

چند گھریلو ٹوٹکے معدے کی تیزابیت کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ جیسے کہ زیرہ، دلیہ، ادرک، دہی، سونف، ہرے پتوں والی سبزیاں ناریل کا پانی، کیلا، گڑ کا استعمال اس کیلیے مفید ہے۔

زیرہ:
ایک چائے کا چمچ زیرہ پانی میں ابال کر قہوہ بنا کر کھانے کے بعد پینا ہاضمہ بہتر کرتا اور تیزابیت کم کرتا ہے۔

دلیہ:
آسانی سے ہضم ہونے والی غذا ہے۔ اس میں موجود فائبر اضافی تیزاب جذب کرکے اپھار اور جلن کم کرتا ہے۔

ادرک:
اینٹی آکسیڈنٹ اور سوزش کم کرنے والی خصوصیات رکھتی ہے۔ ادرک کا قہوہ یا تازہ ادرک کا استعمال بدہضمی اور سینے کی جلن میں فائدہ دیتا ہے۔

دہی:
نہایت مؤثر غذا ہے جو معدے کی جلن کم کرتی ہے۔ نہار منہ دہی کا استعمال مفید ہے، اسے کیلا یا خربوزے کے ساتھ بھی کھایا جا سکتا ہے۔

سونف:
کھانے کے بعد سونف چبانا یا سونف کی چائے پینا تیزابیت اور پیٹ پھولنے میں مددگار ہے۔

ہرے پتوں والی سبزیاں:
دھنیا، پودینہ، میتھی اور بند گوبھی جیسی سبزیاں معدے کے لیے مفید ہیں اور مضر غذاؤں کا متبادل بن سکتی ہیں۔

ناریل کا پانی:
تیزابیت کو متوازن کرتا اور معدے کو ٹھنڈک دیتا ہے۔

کیلا:
الکلائن خصوصیات کے باعث ایسڈیٹی کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ روزانہ ایک دو کیلے مفید ہیں۔

گُڑ:
میگنیشیم سے بھرپور گُڑ ہاضمہ مضبوط کرتا ہے۔ کھانے کے بعد تھوڑی مقدار میں استعمال فائدہ مند ہے۔ اگر ان تدابیر سے افاقہ نہ ہو تو کسی مستند ماہرِ امراضِ معدہ سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ : مندرجہ بالا تحریر معالج کی عمومی رائے پر مبنی ہے، کسی بھی نسخے یا دوا کو ایک مستند معالج کے مشورے کا متبادل نہ سمجھا جائے۔

spot_imgspot_img