خیرالدین باربروسا : سلطنت عثمانیہ کی بحریہ کے امیر (نیول کمانڈر) جنہوں نے شہنشاہ چارلس اور بیشتر عیسائی بادشاہوں کے فوجی بیڑوں کو بُری طرح شکست سے دوچار کیا۔
خیرالدین باربروسا (1475ء سے1546ء) سلطنت عثمانیہ کے عظیم ترین امیر البحر ( المعروف کپتان پاشا) اور بہادر ترین نیول کمانڈر تھے۔
بحیرہ ایجیئن میں لیسبوس کا جزیرہ جو موجودہ یونان کا ایک حصہ ہے، 1470 میں سلطنت عثمانیہ کے زیر حکومت تھا۔ اسی جزیرے پر سلطنت عثمانیہ کے ایک ہیرو پیدا ہوئے جو بعد میں بحیرہ روم کے بادشاہ بن گئے، پاشا باربروس، جن کے لقب کا اطالوی میں مطلب سرخ داڑھی ہے۔
خیرالدین پاشا باربروسا ماضی میں ایک ترک جہاز ران تھے جو بعد ازاں سلطنت عثمانیہ کی بحری افواج کے سربراہ مقرر ہوئے اور کئی دہائیوں تک بحیرہ روم میں اپنی طاقت کی دھاک بٹھائے رکھی۔
سلطان سلیمان قانونی نے ان کی خدمات اور بہادری کو دیکھ کر ہی بحیرہ روم کا حکمران بنایا تھا، انہوں نے چپو والے جہازوں کی حکمت عملی سے یورپی طاقتوں کو شکست دے کر بحیرہ روم کو “عثمانی جھیل” میں تبدیل کیا، جس میں 1538ء کی جنگِ پریویزا ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ امیر البحر باربروسا یونان کے جزیرہ مڈیلی (موجودہ لزبوس) میں پیدا ہوئے۔
آپ کا اصل نام خضر بن یعقوب اوغلو تھا، خیر الدین کا لقب انہیں عظیم عثمانی فرمانروا سلطان سلیمان قانونی نے دیا تھا۔ باربروسا کا نام انہوں نے اپنے بڑے بھائی بابا عروج (عروج رئیس) سے حاصل کیا تھا جو الجزائر میں ہسپانویوں کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہوگئے تھے۔
۔خضر چار بھائیوں اسحاق، عروج اور الیاس میں سے ایک تھے جو 1470ء کی دہائی میں یعقوب آغا اور ان کی مسیحی بیوی قطرینہ کے ہاں پیدا ہوئے۔

خیرالدین بار بروسا کون تھے؟
اگست 1543 میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو یورپ کی تاریخ بدل سکتا تھا، جنوبی فرانس کے ایک شہر نیس کے ساحل پر سلطنت عثمانیہ کا بحری بیڑہ گھیراؤ کیے ہوئے تھا۔
شہر کی ناکہ بندی رومی ہیپس برگ سلطنت کے خلاف جنگ کا حصہ تھی، اگرچہ یہ محاصرہ کامیاب نہ ہوسکا تاہم اس مہم کی سربراہی کرنے والے شخص کا نام آج تک یاد رکھا جاتا ہے۔
یہ شخص خیر الدین باربروس تھے، خیرالدین کون تھے اور وہ ایک جہاز راں سے سلطنت عثمانیہ کے اہم کمانڈر کیسے بنے اور انہیں سمندروں کا بادشاہ کیوں کہا جاتا ہے؟
1543میں باربروسا نے ایک عظیم بحری بیڑے کے ساتھ مغربی بحیرہ روم میں نئی مہمات کا آغاز کیا اور اٹلی اور اسپین کے جزائر اور ساحلی علاقوں پر حملے کیے اور بالآخر فرانسیسی ساحلی شہر نیس پر قبضہ کرلیا۔
باربروسا نے اس کے بعد اگلے موسم بہار میں اسپین اور اٹلی کے اتحادی بیڑے کو ایک مرتبہ پھر زبردست شکست دیتے ہوئے ریاست ناپولی کے قلب تک کامیاب حملے کیے۔
باربروسا 1544ء میں استنبول میں سبکدوش ہو گئے اور الجزیرہ میں ان کے صاحبزادے حسن پاشا کو جانشیں مقرر کیا گیا۔
خیر الدین پاشا بارباروس کا انتقال 1546ء میں استنبول میں آبنائے باسفورس کے کنارے واقع اپنے محل میں ہوا۔ ان کا مزار استنبول میں ترک بحری عجائب خانے کے قریب موجود ہے۔
ترک بحریہ کے متعدد جہازوں کے نام ان ہی کے نام پررکھے گئے ہیں۔ آج بھی ترک بحریہ کا کوئی جہاز آبنائے باسفورس سے گزرتا ہے تو ان کے مقبرے کی طرف سلامی دیتا ہے۔



