کراچی : بچوں کی تعلیم کیلیے والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ کسی اچھے اور معیاری تعلیمی بورڈ کا انتخاب کریں، تاکہ ان کے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو۔
بچوں کی ابتدائی تعلیم سے کر اعلیٰ تعلیم تک والدین ہر مرحلے پران کی ہر طرح سے رہنمائی کرتے ہیں، چاہے وہ اسکول کا انتخاب ہو یا وہاں کے اساتذہ اور تعلیمی ماحول کا جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ کرتے ہیں۔
آج کل دیکھا یہ گیا ہے کہ بچوں کی تعلیم کیلیے بہت سے والدین آغا خان تعلیمی بورڈ کا انتخاب کرتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟
اس سوال کے جواب میں اے آر وائی ڈیجیٹل کے پروگرام گڈ مارننگ پاکستان میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایلکسیر اسکول اور ماہر تعلیم ناصر رضا زیدی نے آغا خان تعلیمی بورڈ کے معیار تعلیم پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
انہوں نے بتایا کہ ملک بہت سے تعلیمی بورڈز ہیں جن میں سندھ بورڈ، کیمبرج بورڈ، ضیاءالدین بورڈ اس کے علاوہ درس نظامی ہے جو مدارس میں پڑھایا جاتا ہے۔
ناصر رضا زیدی کا کہنا تھا کہ اگر دیگر تعلیمی بورڈز کا موازنہ آغا خان تعلیمی بورڈ سے کیا جائے تو واضح ہوجائے گا کیونکہ بہت سے طلبہ و طالبات اپنے بورڈز کو چھوڑ کر آغا خان تعلیمی بورڈ سے تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آغا خان یونیورسٹی ایگزامینیشن بورڈ پاکستان میں معیارِ تعلیم کے حوالے سے ایک معتبر اور جدید بورڈ ہے، جو 2003ء میں قائم ہوا۔
یہ بورڈ بچوں کو رٹنے کی بجائے سمجھنے، تنقیدی سوچ اور عملی صلاحیتوں کو فروغ دینے پر توجہ دیتا ہے، اس کا تعلیمی معیار بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے، جس میں شفاف امتحانی نظام اور طلباء کی فہم کی جانچ پڑتال پر خاص زور دیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کیمبرج بورڈ میں ایک سبجیکٹ کی امتحانی فیس جتنی ہے اس کے مقابلے میں آغا خان بورڈ میں تمام امتحانات کی فیس اس سے کم ہوگی۔
اگر کسی بورڈ سے پرائیویٹ تعلیم حاصل کرنا چاہیں تو کون سا بورڈ زیادہ بہتر ہے کے سوال پر ماہر تعلیم سمیرا آصف کا کہنا تھا کہ بہت سے بورڈ ہیں لیکن پریکٹکل کلاسز کیلیے بچے کو لازمی جانا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو والدین دو تعلیمی بورڈز سے بچوں کو تعلیم دلوا رہے ہیں ان سے گزارش ہے کہ ایک بورڈ سے ہی بچے کو تعلیم دلوائیں بصورت دیگر وہ بہتر نتائج نہیں دے سکے گا۔ ہر ٹیچر ہر مضمون میں ماہر نہیں ہوتا لیکن والدین اس بات کو نہیں سمجھتے۔



