کراچی : پاکستان کی آبادی میں سالانہ 2 فیصد کی شرح سے ہوتا ہوا اضافہ غربت، بے روزگاری، مہنگائی اور سماجی انتشار جیسے سنگین مسائل پیدا کر رہا ہے۔
محدود وسائل کے باعث فی کس آمدنی میں کمی اور تعلیم و صحت کی سہولیات کی فراہمی میں خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں ایسی صورتحال میں نوجوانوں کو ہنرمند بنا کر انہیں کارآمد شہری بنایا جاسکتا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام دی رپورٹرز میں معروف ماہر معاشیات ڈاکٹرخاقان نجیب نے ملکی آبادی پر قابو پانے میں ناکامی کے حوالے سے اہم گفتگو کی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں رواں سال 70 سے 80 لاکھ بچے پیدا ہوں گے، پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے جس کی آبادی 2023 میں 24 کروڑ 15 لاکھ سے زیادہ تھی، جس میں تقریباً 60 فیصد دیہی اور 40 فیصد شہری آبادی ہے۔
تیزی سے بڑھتی ہوئی شہری آبادی (تقریباً 40 فیصد) کے باعث شہروں میں رہائش، پانی، صحت و تعلیم جیسی بنیادی سہولیات کیلیے شدید دباؤ ہے، جس سے شہروں پر آبادی کا بوجھ بڑھ رہا ہے اس کیلیے ذمہ داران کو چاہیے کہ جتنا جلدی ہوسکے اس مسئلے پر قابو پائے۔
ڈاکٹرخاقان نجیب نے بتایا کہ یہ بات بھی مدنظر رکھنی چاہیے کہ زیادہ آبادی جی ڈی پی گروتھ میں اضافہ نہیں کرتی۔ بنگلہ دیش سے موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہاں کی پوری گارمنٹ انڈسٹری صرف خواتین چلا رہی ہیں۔
ماہر معیشت کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 23 فیصد خواتین کام کرتی ہیں جبکہ وہ ملک کی مجموعی آبادی کا 50فیصد ہیں لہٰذا خواتین کی تعلیم و تربیت کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔ کیونکہ معاشرے کی فلاح بہبود کیلیے عورت کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے۔



