ریلوے پولیس کی تاریخ میں آج سے تقریباً 25 سال قبل ایسا خوفناک واقعہ پیش آیا جس نے حکام کو ہلا کر رکھ دیا اور وہ سرپکڑ کر بیٹھ گئے۔
اے آر وائی کے نیوز کے پروگرام کرمنلز موسٹ وانٹیڈ مطابق واردات سے قبل محمد نواز نامی کانسٹیبل محکمے میں پچھلے 8، 9 سال سے ملازم تھا، ملزم نے لاہور میں اس جرم کے ارتکاب کےلیے بہت زبرست منصوبہ بندی کی تھی، پاکستان ریلوے لاہور کے اکاؤنٹس آفس میں یہ خوفناک واقعہ رونما ہوا۔
کانسٹیبل محمد نواز لاہور ورکشاپ ڈویژن میں خزانہ گارڈ میں تعینات تھا اس نے رات کے اندھیرے میں ڈویژنل اکاؤنٹس آفس مغلپورہ میں جرم کی گھناؤنی کارروائی کی اور 3 کروڑ 21 لاکھ روپے کی بڑی ڈکیتی کی۔
ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی تنخواہ لے کر فرار ہوگیا، سب سے پہلے اس نے آفس میں یہ بتایا کہ اس کا بیٹا ہوا ہے جبکہ اس سنے سب کو مٹھائی بھی کھلائی۔
بعدازاں اس نے سب کو کھانے کی دعوت دی اور کڑھائی میں نشہ آور دوا ملا کر ریلوے پولیس کے سارے اہلکاروں کا کھلا دیا جس کے باعث وہ سب ہوش و حواس سے بیگانہ ہوگئے۔
ساڑھے 3 کروڑ کی اس ڈکیتی میں اس کا ساتھ دیا اس کے ایک دوستے نے جسے وہ باہر سے خزانے کے کمرے کا تالا کاٹنے کےلیے لایا تھا۔
یہ واردات 28 اور 29 دسمبر کی درمیانی شب سن 2005 میں انجام دی گئی، تاہم اب تک پولیس اس کانسٹیبل محمد نواز کو تلاش نہیں کرسکی اور وہ قانون کی نظروں سے روپوش ہے۔



