spot_img

ذات صلة

جمع

لاہور ہائی کورٹ کا میشا شفیع اور علی ظفر کیس کا فیصلہ ایک ماہ میں سنانے کا حکم

لاہور : لاہور ہائی کورٹ نے میشا شفیع پر سوشل میڈیا میں بیان دینے پر پابندی برقرار رکھتے ہوئے پابندی ہٹانے کی درخواست مسترد کردی۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کا حکم ہے کہ سیشن کورٹ میشا شفیع کیخلاف علی ظفر کے ہتک عزت کیس کا فیصلہ 30 روز میں کرے۔

عدالت کے مطابق فیصلے سے پہلے سوشل میڈیا ٹرائل سے علی ظفر کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کا مزید کہنا ہے کہ ہرجانہ کی ادائیگی کسی کی ساکھ خراب کرنے کا متبادل نہیں ہوسکتا،
ماتحت عدالت کا میشا شفیع پر پابندی کا حکم برقرار رہے گا۔

لاہور ہائیکورٹ نے اداکارہ میشا شفیع کی ہتک عزت کے دعوے پر بیان دینے سے روکنے کے خلاف درخواست مسترد کردی، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس احمد ندیم ارشد نے اداکارہ میشا شفیع کی درخواست مسترد کرنے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت کا کہنا ہے کہ ماتحت عدالت کا میشا شفیع پر پابندی کا حکم برقرار رہے گا، اظہار رائے بنیادی حق ضرور ہے مگر یہ حق مطلق نہیں، اظہار رائے کی آڑ میں کسی کی عزت، وقار کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

اچھی شہرت کا حامل یہ مؤقف اختیار کرے کہ اس پر الزامات لگائے جارہے ہیں تو روکنے کا حق ہے، عدالت کے پاس یہ اختیار ہے کہ حتمی فیصلے تک ایسے بیانات سے روکنے کا حکم دے۔

جسٹس احمد ندیم نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کا عبوری حکم بالکل درست، قانونی اور آئینی تقاضوں کے مطابق ہے،
میشا شفیع کے وکیل کا ہتک عزت مقدمات میں حکم امتناع جاری نہ کرنے کا مؤقف بھی مسترد کردیا گیا۔

لاہور ہائی کورٹ کے مطابق مخصوص حالات میں حکم امتناع ختم کرنے کا حکم دینا قانونی طور پر درست نہیں،
زیرسماعت معاملے پر بار بار بیانات دینا متوازی میڈیا ٹرائل کے مترادف ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ کسی ذمہ دار شہری کی شہرت کو پہنچنے والا نقصان مالی معاوضے سے پورا نہیں کیا جاسکتا، ہرجانہ کی ادائیگی کسی کی ساکھ خراب کرنے کا متبادل نہیں ہوسکتا۔

لاہور ہائیکورٹ نے سیشن کورٹ کو30روزمیں ہتک عزت کیس کا فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی، لاہور ہائیکورٹ پہلے بھی میشا شفیع کی ہراسگی کیس سے متعلق درخواستیں بھی خارج کرچکی ہے۔

ایف آئی اے انکوائری کرچکی کہ سوشل میڈیا پرعلی ظفر کی کردار کشی کی منظم مہم چلائی گئی، علی ظفر کی کردار کشی مہم میں میشا شفیع سمیت9افراد کے ملوث ہونے کا تعین کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ میشا شفیع نے سیشن عدالت کا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس میں ان کا مؤقف تھا کہ بیان دینے پر پابندی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ کسی کیخلاف کوئی بیان بازی نہیں کرنی اپنا نقطہ نظر بیان کرنا ہے، علی ظفر نے میشا شفیع کیخلاف ماتحت عدالت میں 100کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کر رکھا ہے۔

جسٹس احمد ندیم ارشد نے فیصلے میں کہا کہ ٹرائل کورٹ کا ہتک عزت کے دعوی کے حتمی فیصلے تک بیان دینے سے روکنے کا فیصلہ درست ہے، اظہار رائے کے معاملے پر عدالت بڑا احتیاط برتتی ہیں۔

spot_imgspot_img