مسقط : عمان میں کرایہ داروں اور مالکان کے حقوق منظم کرنے کے لیے کرایہ داری سے متعلق نیا قانون نافذ کردیا گیا ہے، جس پر تمام مالکانِ مکان کے لیے عمل کرنا لازم ہوگا۔
عمان میں کرایہ داری کے تنازعات کے حل کے لیے ایک نیا ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا گیا ہے جس میں سرکاری فیس بھی شامل ہے اور تمام کارروائیاں کمپیوٹرائزڈ طریقے سے کی جائیں گی۔
عمان کی وزارتِ داخلہ نے کرایہ داری تنازعات کے کمپیوٹرائزڈ قواعد و ضوابط متعارف کرا دیے ہیں، جسے تنازعات کے حل کو مؤثر بنانے اور ڈیجیٹل سرکاری خدمات کے دائرہ کار میں توسیع کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کردہ فیصلے کے تحت رہائشی، تجارتی اور صنعتی جائیدادوں کے مالکان اور کرایہ داروں کے درمیان تنازعات کو کمپیوٹرائزڈ طریقے سے نمٹانے کے لیے باضابطہ فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔
یہ فیصلہ کرایہ دار اور مالک مکان کے تعلقات، دیوانی و تجارتی طریقۂ کار، قانونِ شہادت اور لین دین سے متعلق موجودہ قوانین کی بنیاد پر جاری کیا گیا ہے۔
نئے ضوابط کے مطابق کرایہ داری تنازعات کے فیصلے کے لیے کمپیوٹرائزڈ درخواستیں کرایہ داری تنازعات کے فیصلے کی کمیٹی کو جمع کرائی جاسکیں گی، جن کے ساتھ قانون کے مطابق درکار معاون دستاویزات بھی فراہم کرنا ہوں گی۔
درخواست گزاروں کو تمام فریقین کی رابطہ معلومات، بشمول فون نمبرز اور ای میل ایڈریسز، کے ساتھ ساتھ مقررہ سرکاری فیس کی ادائیگی کا ثبوت بھی جمع کرانا ہوگا۔
کمیٹی کے چیئرمین کی اجازت کے بغیر مقدمے سے متعلق دستاویزات تک رسائی، ان کی ترسیل یا نقول بنانے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ عدالتی کارروائی کو فریقین کے دستخط کے بغیر الیکٹرانک منٹس میں ریکارڈ کیا جائے گا۔
فیصلے کے مطابق کمیٹی کے سیکریٹری کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ درخواستوں کو کمپیوٹر ڈیٹا میں درج کرے اور جمع کرانے کے سات دن کے اندر انہیں سماعت کے لیے شیڈول مقرر کرنے کی غرض سے چیئرمین کو ارسال کرے۔
فریقین کو سماعت کی تاریخ سے متعلق اطلاع ای میل سے دی جائے گی، تاہم اگر یہ اطلاع ممکن نہ ہو تو قانون کے مطابق متبادل طریقۂ کار اختیار کیا جائے گا۔
اگرچہ بنیادی طریقۂ کار الیکٹرانک ہوگا، تاہم کمیٹی کے چیئرمین کو ضرورت پڑنے پر فریقین کی ذاتی حاضری طلب کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
اسی طرح فریقین بھی الیکٹرانک نظام کے ذریعے ذاتی حاضری کی درخواست دے سکتے ہیں، جس پر کمیٹی سات ورکنگ دنوں کے اندر فیصلہ کرنے کی پابند ہوگی۔
ضابطے میں منظور شدہ تکنیکی اور سائبر سکیورٹی معیارات پر عمل درآمد کو بھی لازمی قرار دیا گیا ہے،
اب یہ فیصلہ عملاً نافذ العمل ہوچکا ہے جو عمان میں ڈیجیٹل تبدیلی اور تنازعات کے مؤثر حل کے حکومتی اقدامات کو مزید مضبوط بناتا ہے۔



