سندھ کے بعد پنجاب میں بھی ٹریفک کے بھاری ای چالانوں نے شہریوں کو ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے، خصوصاً درمیانے درجے کی تنخواہ والے شخص کا بجٹ ایک ہی جرمانے میں تہس نہس ہوجائے گا۔
صوبائی حکومت کے مطابق کیمروں کے ذریعے کیے جانے والے ای چالان کے جرمانے 2 ہزار سے شروع ہوکر 15 ہزار روپے تک ہیں جس میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں جیسے اوور اسپایڈنگ، رانگ وے، سگنل توڑنا، ہیلمٹ نہ پہننا وغیرہ شامل ہیں
حکومت کا مؤقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد حادثات میں کمی لانا اور شہریوں کو ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کرانا ہے
اے آر وائی نیوز کے پروگرام سرعام کی ٹیم نے لاہور کی مصروف شاہراہ پر ڈی ایس پی ٹریفک میاں عمیر سے گفتگو کی جنہوں نے قوانین کی خلاف ورزیوں کے نقصانات سے آگاہ کیا۔
اس کے علاوہ ٹیم سرعام نے عام شہریوں سے بات چیت کرکے ان کے خیالات جانے اور حکومت کو تجاویز دیں اس موقع پر کچھ لوگوں نے بہت دلچسپ باتیں بھی کیں،
لوگوں کا کہنا تھا کہ حکومت اور پولیس کے اندر یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ صرف جرمانے لگانے سے ٹریفک کے کلچر میں تبدیلی نہیں لائی جا سکتی، اس کے لیے شہری اداروں اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ کو شامل کرکے مشترکہ کوشش کی ضرورت ہے۔



