spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

لیاری گینگ وار کی کہانی اور بھارتی فلم ‘دھورندھر’ ، حقیقت کیا ہے؟

لیاری گینگ وار پر مبنی بھارتی فلم ‘دھورندھر’ میں حقیقی واقعات خاص طور پر لیاری کے گینگسٹر رحمان ڈکیت اور خصوصاً پولیس افسر چوہدری اسلم کے کردار کو منفی انداز میں دکھایا گیا ہے۔

اس فلم ‘دھورندھر’ اور لیاری کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں کرائم رپورٹر کامل عارف اور پاکستانی فلم پروڈیوسر یاسر نواز نے اہم گفتگو کی۔

کامل عارف کا کہنا تھا کہ بھارت میں لیاری کی نسبت بہت بڑے اور خطرناک جرائم پیشہ افراد کے گینگ سنگین ترین وارداتوں میں ملوث ہیں۔ تاہم لیاری کے گینگ وار اب ماضی کا قصہ بن چکے ہیں۔

اداکار یاسر نواز نے کہا کہ بھارت کی فلم انڈسٹری کو پاکستان فوبیا ہے، اس کے ساتھ ہی پاکستان مخالف اسٹوریز ان کیلیے پیسہ کمانے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں یاسر نواز کا کہنا تھا کہ ہمارے فلم سازوں کو بھی اس طرح کی فلمیں بنانی چاہیئیں اور حکومت کو بھی چاہیے کہ اس موضوع پر فلمیں بنانے والوں کے ساتھ تعاون کرے تاکہ دوسرے لوگ ہمارے کانٹنٹ کو استعمال کرکے اس کو منفی انداز میں پیش نہ کرسکیں۔

لیاری گینگ وار کی حقیقت سے متعلق کیے گئے ایک سوال پر کامل عارف نے کہا کہ
لیاری کراچی کا ایک مشہور علاقہ ہے جس کی پہچان صرف گینگ وارز ہی نہیں وہاں پر کھیلوں کی سرگرمیاں بھی اپنے عروج پر ہیں جس کی بڑی مثال وہاں کی فٹبال ٹیمیں ہیں جنہوں نے پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن کیا۔

رحمان ڈکیت

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں ایک بات کو کھلے دل سے تسلیم کرنا چاہیے کہ پاکستان ڈرامہ انڈسٹری میں بھارت سے بہت آگے ہے اسی طرح بالی وڈ فلم انڈسٹری لالی وڈ سے بہت آگے ہے۔ ہمارے فلم ساز لاکھ کوشش کے باوجود چند ایک کے علاوہ قابل ذکر فلمیں نہیں بناسکے۔

واضح رہے کہ بھارتی فلم ‘دھورندھر’ میں پاکستان کے خفیہ اداروں اور بھارتی ایجنٹوں کا کردار بھی شامل کیا گیا ہے، اس فلم کا موازنہ اگر حقیقت سے کیا جائے تو یہ ایک جانب گینگ وار کی دہشت اور دوسری جانب انٹیلی جنس آپریشنز کو بالی ووڈ کے انداز میں پیش کرتی ہے، جس میں حقیقی کرداروں کو فکشن کے ساتھ ملایا گیا ہے، جبکہ گینگ وار کی اصل کہانی میں اس کے برعکس پولیس افسران کی جدوجہد، جرائم اور ریاستی کارروائیاں موجود ہیں۔

spot_imgspot_img