اسلام آباد : معاشی ماہر نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان میں 95 فیصد ٹیکس صرف چند لوگ ادا کر رہے ہیں اور آئی ایم ایف کی شرائط نے صنعت اور سرمایہ کاری کو شدید متاثر کیا ہے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام آن مائی ریٖڈار میں گفتگو کرتے ہوئے ماہر ٹیکس امور اشفاق تولہ نے ملکی ٹیکس نظام، ایف بی آر) کی کارکردگی اور آئی ایم ایف پروگرام سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
اشفاق تولہ کہا کہ زمینی حقائق یہ ہیں کہ ملک میں براہِ راست ٹیکس کا زیادہ تر بوجھ محدود طبقے پر ہے جبکہ معاشی پالیسیوں نے صنعت اور سرمایہ کاری کو شدید متاثر کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تقریباً 95 فیصد براہِ راست ٹیکس صرف ساڑھے سات فیصد لوگ ادا کر رہے ہیں، جبکہ باقی جو 5 فیصد ہیں وہ ساڑھے بانوے فیصد دے رہے ہیں، شہریوں کی بڑی تعداد بڑی آج بھی ٹیکس نیٹ سے باہر ہے، پڑوسی ممالک میں ٹیکس کا تناسب اس کے برعکس زیادہ متوازن ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایف بی آر کی جانب سے ایڈوانس ٹیکس، ودہولڈنگ ٹیکس اور ریفنڈز روکنے کی پالیسی برسوں سے جاری ہے، جس کے باعث کاروباری طبقہ دباؤ کا شکار ہے، ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا بڑا حصہ ان ہی ذرائع پر انحصار کرتا ہے۔
اشفاق تولہ نے دعویٰ کیا کہ سیلز ٹیکس اور دیگر مدات میں اربوں روپے کے ریفنڈز تاحال ادا نہیں کیے گئے، جبکہ بعض ریفنڈز تو ریکارڈ پر بھی نہیں لائے گئے، ان کے مطابق اصل ریونیو شارٹ فال ظاہر کیے گئے اعداد سے کہیں زیادہ ہوسکتا ہے۔
ماہر ٹیکس امور نے بتایا کہ ماضی میں ہم نے ٹیکس اصلاحات سے متعلق متعدد رپورٹس تیار کی تھیں، مگر ان پر مکمل عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق معیشت کو مضبوط کیے بغیر ٹیکس آمدن میں پائیدار اضافہ ممکن نہیں، کیونکہ ٹیکس نظام کو معیشت کے مطابق ہونا چاہیے، معیشت کو ٹیکس کے مطابق نہیں بنایا جا سکتا۔
ماہرین نے آئی ایم ایف پروگرام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بار بار سخت شرائط کے ساتھ نئے پروگرام لیتا ہے، جن میں بلند شرح سود، کرنسی کی قدر میں کمی اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح بڑھانے جیسے اہداف شامل ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ پالیسیاں صنعت اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ حکومت مقامی سرمایہ کاروں کو اعتماد میں لے اور چند برسوں تک پالیسیوں میں تسلسل کی یقین دہانی کرائے۔



