بھارتی پنجاب کے گاؤں میں ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا کہ 25 برس قبل لاپتہ ہونے والا شوہر اچانک واپس گھر آیا تو اس کی واپسی خوشی کے بجائے بحران میں بدل گئی۔
ہنسا سنگھ نامی شخص تقریباً 25 سال قبل پراسرار طور پر لاپتہ ہوگیا تھا، اہل خانہ نے طویل تلاش کے باوجود جب کوئی سراغ نہ پایا تو اسے مردہ تصور کرلیا گیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ اس کی بیوی وملہ کی شادی خاندان کی رضامندی سے ہنسا سنگھ کے چھوٹے بھائی سکھ سنگھ سے کردی گئی، جن کے ہاں بعد میں بچے بھی پیدا ہوئے اور زندگی معمول کے مطابق چلتی رہی۔
حالیہ دنوں اتر پردیش کے نارتھور علاقے میں ایک ذہنی پریشان حال شخص بھیک مانگتے ہوئے پایا گیا۔ شک کی بنیاد پر پولیس نے پوچھ گچھ کی تو اس نے اپنا نام ہنسا سنگھ بتایا۔ بعد ازاں یوپی پولیس نے پنجاب پولیس سے رابطہ کیا، جس پر ہنسا سنگھ کا بھائی اور گاؤں کا سربراہ شناخت کے لیے پہنچے۔
![]()
طویل عرصے اور بدلتی شکل و صورت کے باعث بھائی بھی ابتدا میں اسے پہچان نہ سکا، تاہم بچپن کی یادوں اور خاندانی واقعات کے تبادلے کے دوران ہنسا سنگھ جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور اس کے آنسو بہنے لگے جس پر اس کی شناخت یقینی ہوگئی۔
گھر واپسی پر سب سے بڑا سوال وملہ کے مستقبل کا تھا، ایک طرف اس کا پہلا شوہر تھا جو 25 سال بعد لوٹا، دوسری طرف سکھ سنگھ تھا جس نے گزشتہ 22 برس اس کا ساتھ نبھایا۔ آخرکار وملہ نے موجودہ خاندان اور بچوں کو ترجیح دیتے ہوئے ہنسا سنگھ کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔



