اسلام آباد (14 مئی 2026): پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری سے متعلق مذاکرات کا پہلا دور منعقد ہوا، جس میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے ترسیلات زر کے حوالے سے آئی ایم ایف وفد کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
ذرائع کے مطابق پاکستانی معاشی ٹیم نے ترسیلاتِ زر میں اضافے کے لیے متعارف کرائے گئے ریلیف پیکیج اور مراعاتی اقدامات سے آگاہ کیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سال 2025 کے دوران پاکستان کو 40 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں، جب کہ گزشتہ سال یہ حجم 32 ارب ڈالر تھا۔ حکومت نے ترسیلاتِ زر بڑھانے کے لیے انسینٹیو بیس فنڈ مختص کیا تھا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ 100 ڈالر کی ترسیلاتِ زر بھجوانے پر 35 ریال ٹرانزیکشن فیس کم کر کے 25 ریال کر دی گئی۔ بعد ازاں اس سہولت کا دائرہ بڑھاتے ہوئے 200 ڈالر کی ترسیلاتِ زر پر بھی 25 ریال فیس اسٹیٹ بینک کی جانب سے ادا کی گئی۔
ذرائع کے مطابق سال 2025 میں انسینٹیو بیس ترسیلاتِ زر کے لیے 200 ارب روپے خرچ کیے گئے، جب کہ ترسیلاتِ زر میں اضافے کے لیے اسٹیٹ بینک نے ٹرانزیکشن اخراجات کی مد میں 72 کروڑ ڈالر ادا کیے۔



