spot_img

ذات صلة

جمع

ٹرمپ کا دماغی توازن درست نہیں ہے، امریکی سینیٹر برنی سینڈرز

واشنگٹن (6 اپریل 2026): امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے...

میٹرک کے امتحانات کی تاریخ میں توسیع

کراچی (5 اپریل 2026): میٹرک بورڈ نے سالانہ امتحانات...

ایران کی 97 ویں لہر : امریکی افسران کے خفیہ ٹھکانوں پر بھرپور حملے

تہران (5 اپریل 2026) : ایران کی پاسداران انقلاب...

یونٹ 731 : جاپان میں زندہ لوگوں کو چیر پھاڑ کر تجربات کرنے کی روح فرسا داستان

جاپانی یونٹ 731 کا نام تاریخ کے ان سیاہ ابواب میں شمار ہوتا ہے جنہیں طویل عرصے تک چھپانے کی کوشش کی گئی۔ اب جاپان کے قومی آرکائیوز سے سامنے آنے والی ایک فہرست نے اس خوفناک حقیقت کو ایک بار پھر زندہ کر دیا ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی یونٹ 731 نے مقبوضہ چین کے شہر ہاربین میں خفیہ طور پر بیکٹیریولوجیکل ہتھیار تیار کیے، یہاں پر عام شہریوں اور جاپان کے خلاف مزاحمت کرنے والوں کو گرفتار کر کے ان پر زندہ حالت میں بے ہوش کیے بغیر انتہائی سفاکانہ طریقے سے کاٹ کر سائنسی تجربات کیے جاتے تھے۔

Japan's Wartime Atrocities

گارڈین کی رپورٹ کے مطابق اس یونٹ نے ہزاروں چینی، روسی اور کوریائی زندہ قیدیوں پر تجربات (ویوی سیکشن)، بیماریاں پھیلانے اور زہریلی گیسوں کے بے رحمانہ ٹیسٹ کیے۔

یہ درد ناک کہانی شروع ہوتی ہے 1930 کی دہائی کے وسط میں، جب ہاربین شہر میں ایک خفیہ فوجی یونٹ قائم کیا گیا، بظاہر اس کا نام ’وبا کی روک تھام اور پانی کی صفائی کا شعبہ‘ رکھا گیا، مگر درحقیقت یہ انسانوں پر کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کے تجربات کا مرکز تھا۔

ان فائلوں میں 3 ہزار607 افراد کے نام درج ہیں، جن میں ڈاکٹر، نرسیں، انجینئرز اور فوجی اہلکار شامل تھے۔ یہ ان لوگوں کی فہرست ہے جو ایک ایسے نظام کا حصہ تھے جہاں انسانوں کو محض “لکڑی کے لٹّو” یعنی “لوگس” کہہ کر پکارا جاتا تھا۔

زیادہ تر قیدی چینی اور کوریائی باشندے تھے، جن کی آبادیوں کو جان بوجھ کر بیماریوں جیسے ہیضہ اور ٹائیفائیڈ سے متاثر کیا جاتا، پھر بغیر بے ہوش کیے ان کے جسموں کو چیر پھاڑ کر ان پر تجربات کیے جاتے تھے۔

 Unit 731 Museum

عینی شاہدین کی گواہیاں اس ظلم کی شدت کو مزید واضح کرتی ہیں، ایک سابق نرس نے بتایا کہ جنگ کے اختتام پر انہیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ لاشوں، ہڈیوں اور جسم کے ٹکڑوں کو خفیہ طور پر دفن کریں تاکہ ثبوت مٹا دیے جائیں۔

اسی طرح ایک ڈاکٹر نے برملا اعتراف کیا کہ اسے فلپائن کے جزیرے منڈاناؤ پر ان قیدیوں پر تجربات کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

Unit 731 Operation

جب دوسری عالمی جنگ اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی تھی، یونٹ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل شیرو اشّی نے اس یونٹ کا تمام ریکارڈ تباہ کرکے ضائع کرنے اور عملے کو خاموش رہنے کا حکم دیا۔

حیران کن طور پر جنگ کے بعد امریکی حکام نے ان افراد کو استثنیٰ دے دیا تاکہ ان کی تحقیق تک رسائی حاصل کی جا سکے جو بعد ازاں امریکیوں نے حاصل کر بھی لی۔

یونٹ 731 انسانی تاریخ کے ان تاریک ترین اور سیاہ ابواب میں سے ایک ہے، جس کا مقصد جاپان کی جنگی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے جدید ترین اور ہولناک ترین ہتھیار تیار کرنا تھا۔

یہ داستان صرف ماضی کا قصہ نہیں بلکہ ایک ایسا زخم ہے جو آج بھی تاریخ کے سینے پر تازہ ہے۔ اب جب یہ نام اور حقائق سامنے آ رہے ہیں، مؤرخین کے لیے یہ ایک موقع ہے کہ وہ ان چھپے ہوئے سچ کو دنیا کے سامنے لائیں، تاکہ انسانیت ایسی ہولناکیوں کو کبھی دوبارہ نہ دہرا سکے۔

spot_imgspot_img