کراچی: یورپی یونین کی حالیہ ویزا رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ 2025 کے دوران پاکستانیوں کو شینگن ویزے جاری کرنے کے معاملے میں بیلجیئم نے آسٹریا کے مقابلے میں زیادہ فراخدلانہ رویہ اپنایا۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال پاکستانی شہریوں نے آسٹریا کے لیے جمع کرائی گئی 2 ہزار 543 یونیفارم ویزا درخواستوں میں سے صرف 636 درخواستیں منظور کی گئیں، جن میں 82 ملٹی پل انٹری ویزے شامل تھے، جبکہ 4 محدود علاقائی حیثیت (ایل ٹی وی)والے ویزے بھی جاری کیے گئے۔
اس طرح آسٹریا نے 1 ہزار 758 درخواستیں مسترد کیں، جس کے بعد ویزا نہ جاری کرنے کی شرح 73.3فیصد رہی۔
ایل ٹی وی ویزا کے تحت مسافروں کو صرف آسٹریا یا چند مخصوص شینگن ممالک میں سفر کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔
دوسری جانب بیلجیئم کو پاکستانیوں کی جانب سے 4 ہزار 987 یونیفارم ویزا درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے 2 ہزار 32 درخواستیں منظور کی گئیں۔ ان میں 517 ملٹی پل انٹری ویزے شامل تھے، جبکہ 48 ایل ٹی وی ویزے بھی جاری کیے گئے۔
بیلجیئم نے 2 ہزار 807 درخواستیں مسترد کیں، جس کے بعد اس کی ویزا مسترد ہونے کی شرح 57.4 فیصد رہی، جو آسٹریا کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیلجیئم نے نہ صرف تعداد بلکہ شرح کے لحاظ سے بھی پاکستانی درخواست گزاروں کو زیادہ شینگن ویزے جاری کیے، جبکہ آسٹریا نے کم درخواستیں موصول ہونے کے باوجود سخت پالیسی برقرار رکھی۔
یورپی کمیشن کے مطابق 2025 میں یورپی یونین اور شینگن ممالک کے قونصل خانوں کو قلیل مدتی ویزوں کے لیے تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں، جو 2024 کے مقابلے میں 1.8 فیصد اور 2023 کے مقابلے میں 15.5 فیصد زیادہ ہیں۔
تاہم ویزا درخواستوں کی مجموعی تعداد اب بھی 2019 میں کورونا وبا سے قبل موصول ہونے والی ایک کروڑ 70 لاکھ درخواستوں سے کم ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں ایک کروڑ سے زائد ویزے جاری کیے گئے، جو 2024 کے مقابلے میں 3 فیصد زیادہ ہیں، تاہم یہ تعداد 2019 میں جاری کیے گئے ڈیڑھ کروڑ ویزوں سے کم رہی۔
عالمی سطح پر ویزا مسترد ہونے کی شرح 14.8 فیصد پر برقرار رہی، اگرچہ بعض ممالک میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔
روس، الجزائر اور ایتھوپیا میں ویزا مسترد ہونے کی شرح میں کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ کیپ وردے، کانگو، سینیگال اور برونڈی میں مستردگی کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا۔
شینگن ویزا درخواست دینے والے سرفہرست ممالک میں چین، ترکیہ، بھارت، روس اور مراکش شامل رہے۔
جاری کیے گئے ایک کروڑ ویزوں میں سے 51.2 فیصد یعنی تقریباً 51 لاکھ ویزے ملٹی پل انٹری کے حامل تھے، جبکہ شینگن ریاستوں نے بیرونی سرحدوں پر 83 ہزار 790 ویزے جاری کیے۔



