spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

چارجر اور ٹی وی آف ہونے کے باوجود بجلی چوستے ہیں، جانتے ہیں کیسے؟

عام طور پر لوگ فون کے چارجر یا ٹی وی بند کرنے کے بعد اس کا پلگ سوئچ بورڈ میں لگا چھوڑ دیتے ہیں، کیا آپ کو اس بات کا علم ہے کہ اس طرح کرنے سے کیا نقصان ہوتا ہے۔

اس حوالے سے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ فون کے چارجر، ٹی وی یا دیگر برقی آلات بند کرنے کے باوجود اگر ان کا پلگ سوئچ بورڈ میں لگا رہ جائے تو یہ خاموشی سے بجلی خرچ کرتے رہتے ہیں۔ اس پوشیدہ ضیاع کو “فینٹم انرجی” یا “ویمپائر انرجی” کہا جاتا ہے۔

امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی کے کولمبیا کلائمیٹ اسکول کے ماہر الیکسز ابرامسن کے مطابق گھروں میں استعمال ہونے والی کل بجلی کا 5 سے 10 فیصد حصہ ان ہی غیر استعمال شدہ مگر جڑے رہنے والے آلات کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جدید اسمارٹ ٹی وی بند ہونے کے باوجود بھی 40 واٹ تک بجلی خرچ کرتے ہیں، جو عام ٹی وی کے مقابلے میں تقریباً 40 گنا زیادہ ہے۔ اسی طرح مائیکروویو اوون، گیمنگ کونسولز، لیپ ٹاپ چارجرز اور دیگر ڈیوائسز بھی بجلی کی کھپت میں حصہ ڈالتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ آلات جو اسٹینڈ بائی موڈ پر رہتے ہیں یا جن میں ڈسپلے، گھڑی یا وائی فائی کنکشن جیسی خصوصیات مستقل آن رہتی ہیں، وہ زیادہ توانائی ضائع کرتے ہیں۔

توانائی کے ضیاع سے بچنے کے لیے ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ استعمال کے بعد تمام ڈیوائسز کے پلگ نکال دیے جائیں اور غیر ضروری طور پر اسٹینڈ بائی موڈ پر رکھی اشیاء کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے۔

اگرچہ اس سے بجلی کے بل میں بہت زیادہ فرق نہیں پڑے گا، تاہم طویل مدتی طور پر یہ عادت توانائی کی بچت اور ماحول کی بہتری میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

spot_imgspot_img