کراچی: پیپلزپارٹی نے 27ویں ترمیم میں این ایف سی فارمولے میں تبدیلی کی تجویز مسترد کردی ہے۔
چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ این ایف سی فارمولے میں کسی قسم کی تبدیلی کی حمایت نہیں کرتے، صوبوں کا حصہ ختم کرنے کی تجویز مسترد کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے 27ویں آئینی ترمیم میں دیگر تجاویز بھی منظور نہیں کیں، ن لیگ کا ایک وفد ہمارے پاس آیا تھا اور تجویز دی 27ویں ترمیم کی حمایت کریں۔
بلاول نے کہا کہ ہم اس تجویز کی حمایت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، سی ای سی کا اجلاس نماز جمعہ کے بعد ہوگا جس میں آئینی عدالت پر حتمی فیصلہ ہوگا۔
یہ پڑھیں: 27 ویں ترمیم پر پیپلزپارٹی اجلاس میں گرما گرم بحث چھڑ گئی
چیئرمین پی پی نے کہا کہ آئینی عدالت پر رائے یہ ہے کہ چاروں صوبوں کی برابر نمائندگی ہو، میثاق جمہوریت میں تھا کہ آئینی عدالت ہونی چاہیے اس میں دیگر چیزیں بھی تھیں۔
اس سے قبل ذرائع کا بتانا تھا کہ پی پی اجلاس میں سینئر ارکان نے رائے دی ہے کہ این ایف سی، آرٹیکل 160 شق 3 اے پر سمجھوتہ نہ کیا جائے، پیپلزپارٹی کے بیشتر ارکان 18ویں ترمیم کی کسی شق میں ربدوبدل کے خلاف ہیں۔
پی پی کے سینئر ارکان کی رائے ہے کہ اٹھارویں ترمیم کو نہ چھیڑا جائے، پیپلزپارٹی کے بیشتر ارکان نے اٹھارویں ترمیم کو چھیڑنے سیاسی موت قرار دے دیا۔
ذرائع کے مطابق وفاق کو مشورہ دیا گیا کہ تعلیم اور آبادی سے متعلق اٹھارویں ترمیم سے چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے، پیپلزپارٹی کاموقف ہے کہ اختیارات میں کمی وفاق اور صوبوں میں تنازع پیدا کرسکتی ہے۔
پیپلزپارٹی رہنماؤں نے زور دیا کہ تعلیم اور آبادی کے اختیارات صوبوں کے پاس رہنے چاہئیں۔



