کراچی : پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سابق چیئرمین خالد محمود نے کہا ہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ 2026میں بھارت سے میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم‘ کے مصداق پاکستان کو بھارت سے میچ نہ کھیل کر صرف اور صرف نقصان ہی ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں اپنے مؤقف پر آج بھی پوری طرح قائم ہوں کیونکہ اگر پاکستان ورلڈ کپ میں اپنے میچز جیت کر سیمی فائنل یا فائنل میں بھی پہنچ جاتا ہے اور اس کا سامنا پھر بھارت سے ہوگیا تو کیا ہوگا؟ یقیناً ایونٹ چھوڑ کر واپس آنا پڑے گا تو پھر کیا ملا یہ سب کرنے سے؟ نہ پیسہ ملا اور نہ ٹرافی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یا تو پاکستان کو یہ ورلڈ کپ کھیلنا ہی نہیں چاہیے تھا اور اگر جانا ہی تھا تو آئی سی سی سے اپنی شرائط طے کروا کر جاتے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت اس آئی سی سی کے اہم ایونٹ کا میزبان ہے اور بحیثیت مہمان پاکستان کے پاس کیا جواز ہے کہ وہ اس سے نہ کھیلے، ہم وہاں کرنے کیا جارہے ہیں؟ نہ ہم ٹرافی جیت سکتے ہیں نہ کسی منافع کی امید ہے۔ اس کے علاوہ ہم بنگلہ دیش والے مؤقف سے بھی پیچھے ہٹ گئے۔
واضح رہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں بھارتی ٹیم سے میچ نہ کھیلنے کے حکومتی فیصلے پر گزشتہ روز دیے گئے ایک بیان میں سابق چیئرمین خالد محمود نے کہا تھا کہ پاکستان کو کسی بھی صورت نہ ورلڈ کپ کھیلنا چاہیے اور نہ ہی بھارت سے کوئی میچ کھیلنا چاہیے، چاہے اس کے نتائج جیسے بھی ہوں۔
پاک بھارت میچ نہیں ہوتا تو ورلڈ کپ کا آگے ہونا مشکل ہوجائے گا، نعمان نیاز



