استنبول : ترکیہ کے شہر استنبول میں پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور مکمل ہوگیا۔
اس حوالے سے سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ٹی ٹی پی کو افغانستان میں نئی جگہ منتقل کرنے کی پیشکش مسترد کردی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے ٹی ٹی پی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے وعدے پر عمل درآمد پر زور دیا، افغان طالبان سے استنبول میں ہونے والے مذاکرات 9 گھنٹے تک جاری رہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے وفود کے درمیان مذاکرات استنبول کے مقامی ہوٹل میں ہوئے جس کی میزبانی ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے کی۔ پاکستان نے طالبان کو دہشت گردی کی روک تھام کے لیے جامع پلان دے دیا۔
پاکستان کا چار رکنی وفد مذاکرات میں شریک ہوا۔ جس میں ڈی جی ایم او اور ڈپٹی ڈی جی ایم او شامل تھے، افغان وفد کی قیادت نائب وزیر داخلہ رحمت اللّٰہ مجیب نے کی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق بات چیت سرحد پار دہشت گردی کی نقل و حرکت کو روکنے اور تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے مشترکہ نگرانی اور نگرانی کے طریقہ کار کے قیام پر مرکوز تھی۔
حکام نے تصدیق کی کہ بات چیت میں دونوں فریقوں کے درمیان طویل مدتی سیاسی مفاہمت تک پہنچنے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
مذاکرات کا مقصد افغان سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی کی روک تھام ہے، اس سے پہلے 19 اکتوبر کو دوحا مذاکرات میں وزیردفاع خواجہ آصف اور افغان ہم منصب ملا یعقوب شریک ہوئے تھے، جس میں فوری جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا۔
مذاکرات طے نہ پائے تو پھر ہماری اور افغانستان کی کھلی جنگ ہے، خواجہ آصف
واضح رہے کہ وزیر دفاغ خواجہ محمد آصف نے گزشتہ روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر افغان طالبان سے مذاکرات طے نہ پائے تو ہماری اور افغانستان کی کھلی جنگ ہے۔
سیالکوٹ میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دوحہ میں افغانستان سے مذاکرات دوست ممالک کی وساطت سے کیے جا رہے ہیں۔
قطر اور ابوظہبی بڑے خلوص سے اس عمل میں حصہ لے رہے ہیں، ہمارے بارے میں ان کی کوئی شرائط ہوئیں، تو اس پر بات چیت کریں گے۔ لیکن مذاکرات طے نہ پائے تو ہماری اور افغانستان کی کھلی جنگ ہے۔



