spot_img

ذات صلة

جمع

امریکی فوج نے ایران پر حملے شروع کردیے

واشنگٹن (10 جون 2026) : آبنائے ہرمز کے قریب...

پاپا رازی کی کیا حقیقت ہے؟ حیران کن کہانی سامنے آگئی

پاپا رازی (Paparazzi)کسی ایک شخص کو نہیں بلکہ ان...

بے رحم شخص کا اونٹنی پر تشدد، دونوں آنکھیں نکال لیں

تھرپارکر : اندرون سندھ کے شہر تھرپارکر میں اونٹنی...

جھانوی کپور نے ’پیڈی‘ کے لیے کتنا معاوضہ لیا؟

بالی ووڈ اداکارہ جھانوی کپور کی فلم ’پیڈی‘ میں...

وائٹ کرولا گینگ : سنگین جرائم کی وہ داستان جس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا

کراچی : شہر قائد میں سال 2008 اور 2009 کے دوران بدنام زمانہ ’وائٹ کرولا گینگ‘ کی وارداتوں نے شہریوں کو ایک انجانے خوف میں مبتلا کر رکھا تھا۔

کراچی کے پوش علاقوں کلفٹن اور ڈیفنس میں اور سنسان مقامات پر شہریوں خصوصاً جوڑوں کو لوٹنے اور خواتین کے ساتھ مبینہ زیادتی کے واقعات میں ملوث وائٹ کرولا گینگ بہت سرگرم تھا۔

اس گینگ کا طریقہ واردات انتہائی منظم تھا، جس کے سبب پولیس کا ان کا ہاتھ ڈالنا بہت مشکل تھا یہ گروہ زیادہ تر کارروائیاں رات کے وقت انجام دیتا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزمان سفید رنگ کی کرولا کار میں آتے، اسلحے کے زور پر قیمتی اشیا چھین لیتے اور بعض واقعات میں خواتین کے ساتھ مبینہ غیر اخلاقی حرکات بھی کرتے تھے۔

پولیس کے مطابق ملزمان کرائے پر گاڑی حاصل کرتے، اس کی نمبر پلیٹ تبدیل کرکے وارداتوں کے بعد گاڑی واپس کردیتے تھے۔

اس وائٹ کرولا گینگ کے خلاف 40 سے زائد مقدمات درج ہوئے جبکہ متعدد متاثرین خوف اور بدنامی کے باعث دیگر مکمل تفصیلات سامنے نہ لاسکے۔

محمد علی حاجانو

یہ وارداتیں پولیس کیلیے ایک چیلنج بن گئی تھیں بالآخر سال 2009 میں ہونے والے ایک خواجہ سرا کے قتل نے وہائٹ کرولا گینگ کو پکڑنے میں پولیس کو کافی مدد ملی۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ وائٹ کرولا گینگ کے مرکزی ملزم محمد علی حاجانو  ولد گل محمد حاجانواور اس کے ساتھی عمیر احمد کو خواجہ سرا کے قتل کیس کی تحقیقات کے دوران گرفتار کیا گیا۔

دورانِ تفتیش مرکزی ملزم محمد علی حاجانو نے متعدد وارداتوں کا اعتراف کیا اور بتایا کہ وہ نشے کی حالت میں جرائم کرتا تھا جبکہ شناخت چھپانے کے لیے لمبے بالوں والی وگ اور ٹوپی استعمال کرتا تھا۔

وہائٹ کرولا گینگ

ملزم کا تعلق مالی طور پر مستحکم خاندان سے تھا تاہم بعد ازاں عدالت نے مضبوط شواہد کی بنیاد پر محمد علی حاجانو کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

رپورٹ کے مطابق ملزم سزا مکمل کرنے کے بعد 2025 میں جیل سے رہا ہوا، کچھ عرصے بعد ہی اپنی عادت سے مجبور ہوکر ایک اور ڈکیتی کیس میں دوبارہ گرفتار کرلیا گیا۔

اس بار اس نے موٹرسائیکل پر خاتون کو لوٹنے کی کوشش کی، لیکن متاثرہ خاتون نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملزم کا تعاقب کیا، جس کے بعد اسے دوبارہ گرفتار کرکے عدالتی فیصلے کے بعد ایک بار جیل روانہ کردیا گیا۔

spot_imgspot_img