spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

نیٹ فلکس کی سیریز ’بیڈ بوائے بلینیرز‘ کی آخری قسط 5 سال بعد ریلیز

1 جنوری 2026: نیٹ فلکس نے دستاویزی سیریز ’بیڈ بوائے بلینیرز‘ کی آخری قسط ریلیز کر دی جس کا طویل عرصے سے انتظار کیا جا رہا تھا۔

انڈین میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ قسط ستیام کمپیوٹر سروسز کے اسکینڈل اور اس کے بانی رام لنگا راجو پر مبنی ہے، چوتھی اور آخری قسط ایک طویل قانونی جنگ کے باعث تاخیر کا شکار رہنے کے بعد آج 5 سال بعد ریلیز کی گئی ہے۔

تاخیر کی وجہ 2020 میں حیدرآباد کی ایک سول کورٹ کی جانب سے جاری کردہ حکم امتناع تھا جو رام لنگا راجو کے اس دعوے کے بعد دیا گیا تھا کہ یہ دستاویزی فلم ان کی ساکھ اور زیرِ سماعت قانونی اپیلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

’بیڈ بوائے بلینیرز‘ سیریز کا پس منظر

نیٹ فلکس کی سیریز کا پہلا سیزن اکتوبر 2020 میں ریلیز کیا گیا تھا جس میں وجے مالیا، نیرو مودی اور سبراتا رائے کی زندگیوں اور ان کے مالیاتی کیسز کی تحقیقاتی تفصیلات دکھائی گئی تھیں۔

رام لنگا راجو کی جانب سے شروع کی گئی قانونی کارروائی کی وجہ سے ستیام اسکینڈل والی قسط کو روک لیا گیا تھا۔ سبراتا رائے نے بھی عدالت سے رجوع کیا تھا لیکن ان کی قسط ایک ماہ کی قانونی جدوجہد کے بعد ریلیز کر دی گئی تھی۔

سیریز بھارت کے معروف کاروباری افراد سے جڑے بڑے مالیاتی گھپلوں کی گہرائی تک جاتی ہے۔

رام لنگا راجو کی قانونی مداخلت اور نیٹ فلکس کا مؤقف

رام لنگا راجو نے اس قسط کو رکوانے کی کوشش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس کے مواد سے حقائق متاثر ہو سکتے ہیں جبکہ ان کی قانونی اپیلیں ابھی فعال ہیں۔ انہوں نے دستاویزی فلم میں پیش کردہ واقعات کو ادھوری سچائیوں پر مبنی قرار دیا تھا۔

دوسری جانب نیٹ فلکس نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ دستاویزی سیریز صرف عوامی سطح پر دستیاب ریکارڈ کی عکاسی کرتی ہے اور اس میں ان کی نجی زندگی سے متعلق کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔

ستیام اسکنڈل: ایک مختصر جائزہ

ستیام اسکینڈل کو اکثر بھارت کا اینرون کہا جاتا ہے، یہ کارپوریٹ فراڈ کا ایک بڑا واقعہ تھا جس میں رام لنگا راجو نے کمپنی کے کھاتوں میں 7000 کروڑ روپے سے زائد کا ہیر پھیر کیا تھا۔

فراڈ میں 13000 فرضی ملازمین اور بینک کے جعلی گوشوارے شامل تھے۔ رام لنگا راجو اپنی کمپنی کے حصص کی قیمت برقرار رکھنے کیلیے برسوں تک آمدنی، منافع اور نقد بیلنس میں ہیرا پھیری کرتے رہے۔

نیٹ فلکس انڈیا نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر رائڈنگ دی ٹائیگر کے نام سے اس قسط کی ریلیز کا اعلان کیا۔

spot_imgspot_img