آنکھیں قدرت کا انمول تحفہ ہیں ان کی حفاظت کیلیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا بے حد ضروری ہے، یاد رکھیں تھوٹی سی بے احتیاطی یا آنکھوں کی غلط تشخیص آپ کی روشن زندگی کو اندھیروں میں دھکیل سکتی ہے لہٰذا نظر کے چشمے اور کانٹیکٹ لینس کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں۔
کام کے دباؤ یا نیند کی کمی کے پیش نظر آنکھوں کے مسائل پیدا ہونا عام سی بات ہے تاہم اس کو معمولی سمجھنا اکثر اوقات بہت بھاری پڑ جاتا ہے۔
اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں ماہر امراض چشم ڈاکٹر عمیر قدوائی نے ناظرین کو آنکھوں کی حفاظت اور نظر کے چشمے کے انتخاب سے متعلق بنیادی باتوں سے آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پہلے نظر کے چشمے کے نمبر کا تعین کرنے کیلیے آنکھوں کا معائنہ مینوئل طریقے سے کیا جاتا تھا لیکن اب کمپیوٹرائزڈ طریقہ بھی استعمال کیا جاتا ہے، لیکن ہمارے نزدیک مینوئیل طریقہ زیادہ مناسب، کارآمد اور کامیاب ہے کیونکہ کمپیوٹرائزڈ طریقے سے رزلٹ سو فیصد نہیں آتا۔
ڈاکٹر عمیرنے بتایا کہ ہر شخص کو اپنی آنکھوں کا معائنہ سال میں ایک بار ضرور کرانا چاہیے خاص طور پر 35 سال سے بڑی عمر کے افراد اس بات کا لازمی خیال رکھیں۔
کانٹیکٹ لینس کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کانٹیکٹ لینسز استعمال کرنے والے اس بات کا لازمی خیال رکھیں کہ ہوسکے تو ڈسپوزبل لینس استعال کریں، اور کسی بھی لینس کو 8 گھنٹے سے زیادہ نہیں پہننا چاہیے۔ اس کی صفائی کا خاص خیال رکھیں یہ عام پانی سے نہیں دھوئے جاتے۔



