spot_img

ذات صلة

جمع

امریکی فوج نے ایران پر حملے شروع کردیے

واشنگٹن (10 جون 2026) : آبنائے ہرمز کے قریب...

پاپا رازی کی کیا حقیقت ہے؟ حیران کن کہانی سامنے آگئی

پاپا رازی (Paparazzi)کسی ایک شخص کو نہیں بلکہ ان...

بے رحم شخص کا اونٹنی پر تشدد، دونوں آنکھیں نکال لیں

تھرپارکر : اندرون سندھ کے شہر تھرپارکر میں اونٹنی...

جھانوی کپور نے ’پیڈی‘ کے لیے کتنا معاوضہ لیا؟

بالی ووڈ اداکارہ جھانوی کپور کی فلم ’پیڈی‘ میں...

نادرا ویب سائٹ نئے فیچرز کے ساتھ متعارف، ب فارم کب ایکسپائر ہوگا؟

اسلام آباد : نیشنل ڈیٹابیس رجسٹرشن اتھارٹی (نادرا) کی جانب سے ویب سائٹ کو نئے فیچرز کے ساتھ اپ گریڈ کردیا گیا ہے جس میں ب فارم کی زائد المیعاد مدت کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نادرا نے اپنی ویب سائٹ کو نئے فیچرز کے ساتھ اپ گریڈ کرتے ہوئے شہریوں کے لیے معلومات تک رسائی اور مختلف سہولیات کو مزید آسان بنا دیا ہے۔

اس حوالے سے نادرا پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ترجمان نادرا نے بتایا کہ شہری اب نادرا سینٹرز، ای سہولت مراکز اور مختلف خدمات کی معلومات باآسانی حاصل کرسکتے ہیں، جبکہ کسی بھی شہری کو سروس دینے سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

ترجمان نادرا نے کہا کہ نئی ویب سائٹ میں خصوصی طور پر ایک ’’این گرڈ‘‘ سیکشن شامل کیا گیا ہے، جس کے ذریعے شہری اپنے ضلع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح تک نادرا دفاتر، ای سہولت مراکز اور ان کے اوقاتِ کار کی تفصیلات دیکھ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ویب سائٹ میں ’’رائٹ ٹو انفارمیشن‘‘ (آر ٹی آئی) کے تحت سوالات جمع کرانے کی سہولت بھی دی گئی ہے، جبکہ طلبہ اور محققین کے لیے شماریاتی معلومات کا الگ سیکشن متعارف کرایا گیا ہے، جہاں مختلف علاقوں میں رجسٹرڈ آبادی اور نادرا کے اعداد و شمار تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔

سید شباہت علی کے مطابق وزارتِ داخلہ کی نئی ہدایات میں یہ بات واضح ہے کہ پاکستان کے کسی بھی نادرا سینٹر میں شہریوں کو سروس دینے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

اگر کسی شہری کا ریکارڈ نادرا میں موجود ہے تو وہ ملک کے کسی بھی شہر سے شناختی کارڈ، ایف آر سی یا دیگر خدمات حاصل کرسکتا ہے۔

بچوں کے ’’ب فارم‘‘ سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ تین سال سے کم عمر بچوں کے لیے نادرا سینٹر آنے کی ضرورت نہیں، جبکہ تین سال سے زائد عمر کے بچوں کی تصویر اور 10 سال سے زائد عمر کے بچوں کی بائیو میٹرک تصدیق لازمی ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ 10 سال سے کم عمر بچوں کا ب فارم ای سہولت فرنچائز کے ذریعے بھی بنوایا جا سکتا ہے، جبکہ ’’پاک آئیڈینٹیٹی‘‘ موبائل ایپ کے ذریعے گھر بیٹھے درخواست دینا بھی ممکن ہے۔ اس ایپلی کیشن میں دستاویزات ’’موبائل والٹ‘‘ میں محفوظ رہتی ہیں، جنہیں ضرورت پڑنے پر فوری استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ترجمان نادرا نے شہریوں کو یاد دہانی کرائی کہ تین سال سے کم عمر بچے کا بے فارم تین سال کی عمر مکمل ہونے پر جبکہ 3 سے 10 سال کے بچوں کا ب فارم 10 سال کی عمر میں ازخود ایکسپائر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح 18 سال کی عمر مکمل ہونے کے بعد شہری کے لیے قومی شناختی کارڈ بنوانا قانونی طور پر ضروری ہے۔

نادرا سے متعلق شکایت کہاں درج کرائی جا سکتی ہے؟

spot_imgspot_img