عہد مغلیہ کا آغاز بابر سے ہوتا ہے۔ اب بابر کی شخصیت کو دیکھیے تو وہ قوّت اور حسن کے توازن کا ایک دل کش نمونہ ہے۔ ایک طرف وہ ایسا فاتح ہے جس نے صرف بارہ ہزار سپاہیوں سے ابراہیم لودھی اور رانا سانگا کے ٹڈی دل لشکر کو شکست دی اور ایک عظیم الشان سلطنت کا بانی بنا۔ دوسری طرف وہ شاعر ہے اور ترکی عروض پر رسالہ لکھتا ہے۔
اس کی شخصیت کی قوت اور خوبصورتی کا داخلی اندازہ لگانا ہو تو اس کی ‘تزک’ کا مطالعہ کیجیے جس کے اسلوب میں ایک فاتح کا کردار ایک شاعر کے حسنِ طبیعت سے گلے ملتا نظر آتا ہے۔ جسمانی قوت میں اس کا یہ حال ہے کہ اس نے ہندوستان کے سارے دریا خود پیر کر پار کیے اور قلعے کی دیوار پر دو آدمیوں کو بغل میں دبا کر دوڑ سکتا ہے۔ لیکن دل کی نزاکت کا یہ عالم ہے کہ بیٹے کی بیماری برداشت نہیں کر سکتا اور اس کو بچانے کے لیے اپنی جان صدقے کے طور پر دے دیتا ہے۔ بابر فاتح میں شاعر، شاعر کی ایک کمزوری بھی ہے…شراب نوشی! یہ کمزوری اس لیے ہے کہ بابر خود اسے کمزوری سمجھتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ رانا سانگا کے مقابلے پر اسے فتح اس وقت نصیب ہوئی جب اس نے اپنی فوج کے سامنے آخری تقریر کر کے جام توڑ دیا اور کبھی شراب نہ پینے کا عہد کیا۔ ذہن خود بخود بھٹکتا ہوا محمد شاہ رنگیلے سے سقوط ڈھاکہ تک جاتا ہے اور نہ جانے کیسے کیسے کردار یاد آنے لگتے ہیں۔ مغلیہ خاندان میں بابر کی یہ کمزوری عہد بہ عہد چلتی ہے۔ ہمایوں شراب نہیں پیتا لیکن افیون کھاتا ہے۔ ویسے بھی وہ ایک کمزور شخصیت کا مالک ہے جس کی واحد خوبی یہ ہے کہ رحم اور حسنِ سلوک میں بابر کے حسن طبیعت کا نمونہ ہے۔ اکبر میں بابر کی ساری خوبیاں موجود ہیں۔ وہ فاتح ہے، شہنشاہ ہے، اکبر اعظم ہے، لیکن اس کے دل کو دیکھو تو شاعرانہ نزاکت سے دھڑک رہا ہے۔ وہ ہندوستان میں مغلیہ خون کا شاہکار ہے اور وہ پہلا ہندوستانی ہے جو ہندوستان میں مسلمانوں کے حقیقی مسائل کا سب سے زیادہ شعور رکھتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس مسئلے کے حل کا جو طریقہ وہ اختیار کرتا ہے، اس سے بہت سے لوگوں کو اختلاف ہے اور ان میں بھی شامل ہوں۔ پھر اس حقیقت کو بھولنا نہیں چاہیے کہ اکبر کی پالیسی کا سنگ بنیاد ہمایوں نے رکھا تھا اور بسترِ مرگ پر اکبر کو نصیحت کی تھی کہ ترکوں کو آپس میں لڑنے دو اور سلطنت کی بنیاد مقامی لوگوں کی مدد سے استوار کرو۔
جہانگیر مغلیہ خاندان کے داخلی توازن میں ایک نمایاں عدم توازن کی نشان دہی کرتا ہے۔ اس پر بابری شخصیت کی کمزوری کا غلبہ ہے۔ باپ سے بغاوت، شراب نوشی کی کثرت اور عشق و عاشقی کے وہ افسانے جو اس سے منسوب ہیں، اس کی شخصیت کو ایک افسانہ تو بناتے ہیں لیکن اس میں فاتحانہ قوت، مردانہ صلابت کی نمایاں کی ہے۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اسے بابر اور اکبر کا وہ دل بھی نہیں ملا جو رحم اور حسنِ سلوک کے جذبات سے دھڑکتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر وہ ایک ایسی سخت دلی کا مظاہرہ کرتا ہے جو اس سے پہلے خاندانِ مغلیہ میں ظاہر نہیں ہوئی۔ وہ شیر افگن اور ابو الفضل کو قتل کراتا ہے۔ اپنے بیٹے کو اندھا کرا دیتا ہے اور اپنے دودھ شریک بھائی کو قلعے کی دیوار سے سر کے بل پھنکوا کر مروا ڈالتا ہے۔ لیکن اس سنگ دلی کے ساتھ ’’دل کی کمزوری‘‘ بھی اندر ہی اندر کہیں موجود ہے۔ کشمیر میں ایک مزدور پہاڑی سے گر گیا، لاش گوشت کا ایک لوتھڑا بن گئی۔ لوگ اس لوتھڑے کو کپڑے میں باندھ کر جہانگیر کے سامنے لے آئے۔ جہانگیر نے اس لوتھڑے کو دیکھا تو مزاج مکدر ہو گیا۔ اتنا اثر لیا کہ بیمار ہو گیا اور اسی بیماری میں چل بسا۔ شاہجہاں ایک بار پھر بابری توازن کا مظاہرہ کرتا ہے، لیکن اب کے اس فرق کے ساتھ کہ بابر کی شخصیت کا جزوِ غالب اس کی قوت ہے۔ شاہجہاں کی شخصیت کا جزوِ غالب حسن ہے۔ اب مسلمان ہندوستان میں پورے طور پر جم چکے ہیں۔ اندرونی اور بیرونی طاقتیں ایک دوسرے سے ہم آہنگی میں ایک ایسا توازن حاصل کر چکی ہیں جس میں مقامی اور غیر مقامی کی تفریق گویا ایک وحدت کا حصہ بن چکی ہے۔ ایرانی اور ترک عناصر، جن کی پیکار عہد جہانگیری میں سلطنت مغلیہ کے لیے ایک نمایاں خطرہ تھی، اب ایک ہم آہنگ مرکب کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ یہ دور خارجی فتوحات کا دور نہیں ہے مگر اس کی داخلی فتوحات اتنی بڑی ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی عظمت کی زندہ نشانیاں اسی دور کی دین ہیں۔ اورنگ یب عالم گیر نمایاں طور پر پھر خارجی اور داخلی پیکار کا اظہار کرتا ہے۔ مقامی عناصر کی بغاوتیں دوبارہ شروع ہو جاتی ہیں اور اپنے اثر و نفوذ کی بنا پر خطرناک صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ ایرانی اور ترکی افتراق پھر سر اٹھاتا ہے اور خطرے پر خطرے کا اضافہ کرتا ہے۔ اورنگ زیب کی شخصیت داخلی طور پر بھی ایک پیکار کا شکار ہے۔ وہ شاعر ہے، ادیب ہے، شاعری کا ایک پرستار ہے کہ بیدل کا دیوان سفر میں بھی اپنے ساتھ رکھتا ہے، لیکن اس کی یہ خوبیاں ایک شہنشاہ کی حیثیت سے اس کی کمزوریاں بن سکتی ہیں۔ وہ خارجی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی شخصیت کے ان عناصر کو دباتا ہے اور اس شدت کے ساتھ کہ اس کی خارجی تصویر اس کی داخلی تصویر سے بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ مجھے اورنگ زیب کو دیکھ کر ایک ایسے سپاہی کا خیال آتا ہے جو اندر سے زخموں سے چور چور ہو لیکن انہیں چھپانے کے لیے زرہ پوش ہو گیا ہو اور لوگ اس کی زرہ کو دیکھ کر اس کے زخموں کا اندازہ نہ لگا سکتے ہوں۔ اورنگ زیب میں بابر کا شاعر اور شہنشاہ مساوی قوت رکھتے ہیں۔ مگر اورنگ زیب کے حالات کا تقاضا ہے کہ شاعر کو قتل کیا جائے اور شہنشاہ کو آگے بڑھایا جائے۔ یہ اورنگ زیب کا المیہ بھی ہے اور ہندوستان کے مسلمانوں کا بھی۔ اورنگ زیب ہندوستان میں سلطنت مغلیہ اور مسلمانوں کی قوت کے تحفظ کی اس پیکار کا آخری سپاہی ہے جو اس کی وفات کے ساتھ ہی مسلمانوں کی شکست کو ظاہر کرنے لگتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے ایک شدید انتشار اندر اور باہر سے انہیں توڑ کر رکھ دیتا ہے۔ سلطنت مغلیہ کو بھی اور مسلمانوں کے اقتدار کو بھی۔ اورنگ زیب اس انتشار کا المیہ ہے۔
لیکن اس کے ساتھ ہمارے دیکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ ہندی مسلمان ہندوستان میں کمزور کتنے ہی ہو گئے ہوں مٹے بالکل نہیں۔ جب کہ عرب اندلس میں فنا ہو گئے۔ یہ فرق کیوں ہے اور ہندوستانی مسلمانوں کی بقا کا کیا راز ہے؟ یہ ہمارے سوچنے کی بات ہے۔
(اردو کے معروف نقّاد اور شاعر سلیم احمد کے مضمون بعنوان اقبال کا معجزۂ فن سے اقتباس)



