۲۷ ستمبر ۱۹۷۳ ء کی بات ہے۔ پنڈی جوئلرس (چاندنی چوک دہلی) میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ یہ سردار بشن سنگھ ہیں۔ ۲۸- بی ساؤتھ ایکسٹینشن پارٹ ۲، نئی دہلی میں رہتے ہیں۔ وہ ضلع راولپنڈی کے باشندے تھے، تقسیم کے بعد یہاں (بھارت) چلے آئے۔
راولپنڈی سے ۲۰ میل کے فاصلہ پر گوجر خان ایک قصبہ ہے، وہاں ان کی زمین داری تھی۔ اس کے ساتھ وہ اس وقت آنریری مجسٹریٹ بھی تھے۔ انھوں نے اپنے زمانہ کے انگریز یا فسران کے بہت سے واقعات بتائے۔ ان میں سے ایک واقعہ مسٹر مارسڈن کا تھا جو اس وقت را ولپنڈی میں ڈپٹی کمشنر تھے۔ ۱۹۴۳ کا واقعہ ہے، مسٹر مارسڈن سردار صاحب کے قصبہ میں آئے۔ ان کو گوجر خان کی تحصیل کا معائنہ کرنا تھا۔ تحصیل جانے سے پہلے سردار صاحب سے ملاقات ہوئی۔ سردار صاحب نے خواہش ظاہر کی کہ دوپہر کا کھانا میرے ساتھ کھائیے۔ مسٹر مارسڈن نے دعوت قبول نہ کی اور وہ تحصیل چلے گئے۔ کچھ دیر بعد دوبارہ مسٹر مارسڈن کی کار سردار صاحب کے مکان کے سامنے رکی۔ وہ باہر نکلے تو سردار صاحب نے کہا: اگر آپ نے میری دعوت قبول کر لی ہوتی تو اتنی دیر میں کھانا تیار کرا لیا ہوتا اور آپ کھانا کھا کر یہاں سے جاتے۔ انگریز ڈپٹی کمشنر نے اب بھی سردار صاحب کی کھانے کی دعوت قبول نہ کی۔ البتہ اپنی لڑکی کو جو اس وقت ساتھ تھی، سردار صاحب کے مکان پر چھوڑ دیا اور کہا کہ یہ کل تک آپ کے یہاں رہے گی۔ آپ جو کچھ کھلانا چاہتے ہیں اس کو کھلائیے۔ یہ سردار صاحب حیرت میں تھے کہ یہ معاملہ کیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر صاحب خود تو ایک وقت کھانے کے لئے تیار نہیں ہیں اور لڑکی کو کئی وقت کے لئے چھوڑے جا رہے ہیں۔ ان کو متعجب دیکھ کر مسٹر مارسڈن نے کہا: اصل بات یہ ہے کہ راولپنڈی میں میرے کچھ عزیز آئے ہوئے ہیں، مجھے وہاں پہنچ کر ان کے ساتھ کھانا کھانا ہے، کیونکہ میں ان سے وعدہ کر چکا ہوں۔ مگر میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ لوگوں پر یہ تاثر ہو کہ ڈپٹی کمشنر صاحب یہاں آئے اور انھوں نے آپ کے مکان پر کھانا نہیں کھایا۔ اس سے آپ کی عزت پر اثر پڑے گا۔ آپ کی عزت کو بچانے کے لئے میں لڑکی کو آپ کے یہاں چھوڑے جا رہا ہوں:
I want to keep your prestige
بڑا آدمی وہ ہے جو دوسرے کے بارے میں بھی اتنا ہی حساس ہو جتنا کوئی شخص اپنے بارے میں ہوتا ہے۔ جو دوسرے کی بے عزتی کو اپنی بے عزتی سمجھے اور دوسرے کی عزت کو اپنی عزت۔
(مولانا وحید الدین خاں کی کتاب سبق آموز واقعات سے انتخاب)



