spot_img

ذات صلة

جمع

انمول پنکی کا کرمنل ریکارڈ سامنے آگیا

کراچی (14 مئی 2026): خاتون ڈرگ ڈیلر انمول پنکی...

انمول پنکی 300 گرام کوکین کو ایک کلو کیسے کرتی تھی؟

کراچی : ہائی پروفائل کیس میں گرفتار خاتون ڈرگ...

سندھ پولیس کے انسپکٹر شفیق تنولی کی شہادت کا آنکھوں دیکھا حال

کراچی : شہر قائد میں تقریباً 12 سال قبل خودکش حملے میں سابق ایس ایچ او شفیق تنولی اپنے دوستوں سمیت ایک خودکش حملے جام شہادت نوش کرگئے تھے جس میں ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔

سندھ پولیس کے بہادر افسر انسپکٹر شفیق تنولی پرانی سبزی منڈی کے قریب اپنے گھر سے کچھ فاصلے پر دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ خودکش بمبار آیا اور اس نے مصافحہ کیلیے ہاتھ ملایا اور دھماکہ کردیا، حملے میں ان کے دوست جلال، محمد داؤد اور اعجاز احمد شہید جبکہ 15 افراد زخمی ہوئے۔

shafiq tanoli

شفیق تنولی 10 مئی 1971 کو پیدا ہوئے اور 1991 میں سندھ پولیس میں بھرتی ہوئے، وہ لیاری گینگ وار، کالعدم تنظیموں اور ٹارگٹ کلرز کے خلاف کارروائیوں کے باعث کراچی میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔

شہید شفیق تنولی کی زندگی، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور ان کی شہادت سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، وہ کسی بھی تھانے کی حدود کی پرواہ کیے بغیر جہاں اطلاع ملتی اپنی پولیس ٹیم کے ساتھ کارروائی کے لیے پہنچ جاتے تھے۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ’نکتہ ٹُرو کرائم‘ میں ان کی صاحبزادی سنیتا شفیق اور کرائم رپورٹر نے دل دہلا دینے والے واقعات بیان کیے ہیں۔

صاحبزادی نے دھماکے کا آنکھوں دیکھا حال بتا دیا

ان کی صاحبزادی نے بتایا کہ 2014 کے بم حملے کے وقت پورا گھر دھماکے سے لرز اٹھا تھا اور ٹی وی چینلوں پر والد کی شہادت کی خبریں چلنا شروع ہوگئی تھیں۔

سنیتا کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت مسلسل اپنے والد کو فون کرتی رہیں، بعد ازاں ابو نے ایمبولینس میں زخمی حالت میں بات کی اور تسلی دیتے ہوئے کہا کہ راجا بیٹا میں بالکل ٹھیک ہوں، پریشانی کی کوئی بات نہیں۔

صاحبزادی نے مزید بتایا کہ ان کے والد کو پہلے ہی خطرات لاحق تھے اور انہیں معلوم تھا کہ شدت پسند تنظیمیں ان کی جان کے درپے ہیں، اس سے قبل بھی ایک واقعے میں ایک مشتبہ شخص خودکش جیکٹ پہن کر ان کے گھر تک پہنچ گیا تھا، جس کے بعد انہوں نے گھر کی دیواریں مضبوط اور اونچی کروا دی تھیں۔

daughter Sunita

چھوٹے بھائی کے قتل کے بعد کس نے دھمکیاں دیں؟

سنیتا نے اپنے چھوٹے چچا نوید کے قتل کے حوالے سے بتایا کہ ایک روز ٹی وی پر کسی کے قتل کی خبر چلی جس پر میری امی نے ابو سے کہا تو انہوں نے فوری طور رابطہ کیا جس پر انہیں چچا پر فائرنگ کی خبر ملی وہ ننگے پیر ہی اسپتال کی طرف بھاگے لیکن چچا نوید جاں بحق ہوچکے تھے، صاحبزادی نے بتایا کہ جب وہ گھر واپس آئے تو ان کو ایک فون کال آئی جس میں ان کو دھمکی دی گئی کہ آج کے بعد ہمارے کسی بندے پر ہاتھ ڈالا تو تمہارے دوسرے بھائی کا بھی یہی انجام ہوگا۔

شفیق تنولی کی بیٹی نے الزام عائد کیا کہ ان کے والد کی شہادت کے بعد اہل خانہ کو سرکاری سطح پر شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ان کے مطابق شہید کے بچوں کو ملازمت دینے کے وعدے تو کیے گئے لین وہ کبھی پورے نہیں ہوئے اور کئی برس تک مختلف دفاتر کے چکر لگوائے جاتے رہے۔

شہادت سے قبل رپورٹر سے کیا کہا؟

واقعے سے متعلق تفصیلات بیان کرتے ہوئے ایک کرائم رپورٹر نے بتایا کہ دھماکے کے بعد دفتر سے مسلسل فون آرہے تھے کہ فوری طور پر بتایا جائے کہ شفیق تنولی کی زندگی سے متعلق مصدقہ خبر دیں۔

رپورٹر کے مطابق وہ فوری طور پر آغا خان اسپتال پہنچے جہاں زخمی حالت میں موجود شفیق تنولی نے انہیں ہاتھ کے اشارے سے بتایا کہ وہ زندہ ہیں، تاہم ان کی حالت انتہائی تشویشناک تھی اور زخموں سے مسلسل خون بہہ رہا تھا۔ تاہم بعد ازاں کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالق حقیقی سے جاملے۔

blast

شفیق تنولی کی سیکیورٹی واپس کیوں لی گئی؟

شہید کے قریبی ذرائع کے مطابق انہیں مسلسل دھمکیاں مل رہی تھیں اور حساس ادارے بھی خطرات سے آگاہ کرتے رہے، جس کے بعد انہوں نے بکتر بند گاڑی میں سفر کرنا شروع کر دیا تھا، تاہم اپریل 2014 میں انہیں معطل کیے جانے کے بعد ان کی سیکیورٹی اور بکتربند گاڑی واپس لے لی گئی تھی۔

پروگرام میں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کرائم رپورٹر اور سابق پولیس افسران نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں جانیں قربان کرنے والے افسران کے خاندانوں کو وہ سہولیات اور عزت نہیں دی جاتی جس کے وہ حقدار ہیں۔

spot_imgspot_img