spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

سعودی عرب میں کن اقامہ ہولڈرز کو واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا؟

ریاض: سعودی عرب میں اقامہ قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہونے پر 12 ہزار کے قریب غیرقانونی تارکین وطن کو بےدخل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اقامہ اور لیبر قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر سعودی عرب میں ایک ہفتے کے دوران 12 ہزار سے زائد غیرقانونی تارکین وطن کو مملکت سے بےدخل کیا گیا، ایک ہفتے کے دوران اقامہ، لیبر اور سرحدی قانون کی 17 ہزار 880 خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔

ذرائع نے بتایا کہ 12 ہزار661 غیرقانونی تارکین قوانین کی پامالی پر ان کے ملک واپس بھیجا گیا، 11 سے 17 دسمبر کے درمیان مجموعی طور پر 11 ہزار190 افراد کو اقامہ قانون، 3 ہزار801 کو غیر قانونی سرحد عبور کرنے کی کوشش پر بےدخل کیا گیا

اس کے علاوہ 2 ہزار 889 افراد کو قانون محنت کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا، غیرقانونی طور پر سعودی عرب میں داخل ہونے کی کوشش پر ایک ہزار509 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا۔

حراست میں لیے جانے والے 55 فیصد افراد ایتھوپین، 44 فیصد یمنی اور ایک فیصد دیگر ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

سعودی وزارت داخلہ کے مطابق جو بھی غیرقانونی تارکین کو مملکت میں داخل ہونے کے سلسلے میں سہولت فراہم کرے گا، اسے 15 برس قید اور 10 لاکھ ریال تک جرمانے کے ساتھ گاڑی اور جائیداد کی ضبطی کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

علاوہ ازیں 40 ایسے افراد کو بھی پکڑا گیا ہے جو سرحد پار کرکے سعودی عرب سے ہمسایہ ملکوں میں داخل ہونے کی کوشش کررہے تھے، انھیں سفر، رہائش، روزگار اور پناہ دینے کی کوششوں میں ملوث 15 افراد کو بھی پکڑا گیا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ سعودی مملکت میں غیرقانونی تارکین وطن کو سفری، رہائشی یا ملازمت کی سہولت فراہم کرنا قانوناً جرم ہے اور اس کے لیے مختلف سخت سزائیں مقرر ہیں جن پر سختی سے عملدرآمد کیا جاتا ہے۔

سعودی عرب: ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق اہم فیصلہ

spot_imgspot_img