spot_img

ذات صلة

جمع

ممکنہ برطانوی وزیراعظم اسرائیل پر مزید دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں!

برطانیہ کے ممکنہ اگلے وزیر اعظم اینڈی برنہم کا...

فرانس کے کھلاڑیوں پر نامناسب تبصرہ امیتابھ بچن کے گلے پڑ گیا

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے دوران اداکار امیتابھ بچن...

ہمایوں اشرف اور خدیجہ سلیم کی گانے پر پرفارم کرنے کی ویڈیو وائرل

اداکار ہمایوں اشرف اور اداکارہ خدیجہ سلیم کی ماضی...

مشہد میں شہید آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ ادا

مشہد میں شہید آیت اللہ خامنہ ای کی نماز...

احسن خان کے والد انتقال کرگئے

شوبز انڈسٹری کی معروف اداکار احسن خان کے والد...

’ستلج‘ کو او ٹی ٹی سے ہٹانے پر گوردواروں میں نمائش

دلجیت دوسانجھ کی متنازع فلم ’ستلج‘ کو زی فائیو سے ہٹانے پر گوردواروں میں نمائش کا آغاز کردیا گیا ہے۔

فلم ‘ستلج’ زی فائیو پر مختصر ریلیز کے بعد غائب ہونے کے بعد پنجاب بھر میں ایک غیر متوقع ناظرین تلاش کرنے میں کامیاب رہی ہے جہاں اسسٹریمنگ پلیٹ فارم سے فلم ہٹائے جانے کے ہفتوں بعد بھی گاؤں کے لوگ دلجیت دوسانجھ کی اس فلم کی کمیونٹی اسکریننگز  کا اہتمام کر رہے ہیں۔

موگا اور لدھیانہ سے لے کر برنالہ، سنگرور اور امرتسر تک، مقامی لوگ گردوارہ کمپلیکس، دیہاتی کمیونٹی سینٹرز اور مارکیٹ کے علاقوں میں اس فلم کو دیکھنے کے لیے جمع ہو رہے ہیں جو کہ انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالرا کی زندگی پر مبنی ہے۔

یہ اسکریننگز فلم کو آن لائن دستیاب ہونے کے محض دو دن بعد ہی زی فائیو سے ہٹائے جانے کے بعد شروع ہوئیں جس نے اس کی ریلیز کے لیے چار سالہ طویل انتظار کو ختم کر دیا تھا۔

کمیونٹی اسکریننگز کی اطلاعات موگا، سنگرور، پٹیالہ، ہوشیار پور، گورداسپور، بٹھنڈا، لدھیانہ، برنالہ اور امرتسر سمیت مختلف اضلاع سے موصول ہوئی ہیں۔

یہ پڑھیں: جسونت سنگھ کھالڑا کون تھے؟ متنازع فلم ’ستلج‘ نے پرانے زخم تازہ کردیے

اس مہم کے پیچھے کوئی مرکزی منتظم نہیں ہے کچھ دیہاتوں میں اسپورٹس کلبوں نے ایل ای ڈی اسکرینز اور ساؤنڈ سسٹم کا انتظام کرنے کے لیے فنڈز جمع کیے ہیں جبکہ دیگر مقامات پر مقامی رضاکاروں، گردوارہ کمیٹیوں یا خاندانوں نے اخراجات برداشت کیے ہیں جبکہ کچھ اسکریننگز کے لیے بیرون ملک مقیم پنجابیوں نے بھی فنڈز فراہم کیے ہیں۔

زیادہ تر اسکریننگز شام 6 بجے کے بعد شروع ہوتی ہیں تاکہ دیہاتی کام سے واپسی کے بعد ان میں شرکت کر سکیں۔

جہاں گردوارہ کی حدود میں اسکریننگز ہوتی ہیں وہاں شرکاء داخل ہونے سے پہلے اپنے جوتے اتارتے ہیں اور سر ڈھانپتے ہیں۔ دیگر دیہاتوں میں لوگ کمیٹی سینٹرز یا مارکیٹ کے علاقوں میں جمع ہوتے ہیں۔

رضاکار بیٹھنے کے انتظامات، انڈسٹریل کولرز، ایل ای ڈی والز اور آڈیو سسٹمز کا انتظام کرتے ہیں جبکہ کچھ مقامات پر پینے کا پانی اور روح افزا جیسے مشروبات بھی تقسیم کیے جاتے ہیں، خاندان اکٹھے شرکت کرتے ہیں جس سے ایک انفرادی اسٹریمنگ کا تجربہ ایک مشترکہ سماجی تقریب میں بدل گیا ہے۔

پربھ دیول جنہوں نے مقامی لوگوں کی درخواست پر بالیاں میں اپنے بینکوئٹ ہال میں اسکریننگ کی میزبانی کی انہوں نے بتایا کہ ردعمل انتہائی شاندار رہا ہے۔

دوسری طرف، امن  جو ایل ای ڈی والز اور ساؤنڈ سسٹم کرایے پر دیتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ اسکریننگز کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور متعدد دیہاتوں میں بکنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

spot_imgspot_img