ہمارے ملک میں خواتین کے خلاف تشدد انہونے واقعات نہیں یہ مسئلہ اکثر گھرانوں میں دیکھا جاتا ہے، اعداد و شمار اس بحران کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’عورت فاؤنڈیشن‘اور بچوں کے تحفظ کی تنظیم ساحل کی رپورٹ میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
ان تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں ملک بھر میں خواتین پر ہونے والے تشدد کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا۔
حالیہ اعداد و شمار کے مطابق خواتین کیخلاف تشدد کے واقعات گزشتہ سال کی نسبت 25 فیصد بڑھے یعنی 2024 کے 5ہزار مقدمات کے مقابلے میں رواں سال ساڑھے 6ہزار کیسز رپورٹ ہوئے۔
اس بے رحمانہ تشدد میں ملوث لوگ کوئی غیر نہیں بلکہ ان کے قریبی رشتے ہی ہیں، رپورٹ کے مطابق تشدد کرنے والوں میں سرفہرست ان کے سگے رشتہ دار 32 فیصد ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر نامعلوم 21 فیصد غیر رشتہ دار 17 فیصد اور شوہر 12 فیصد ہیں۔،
خواتین پر تشدد کے حوالے سے ملک کے کس صوبے میں کتے نے مقدمات درج کیے گئے، فہرست کے مطابق اس کا رجحان سب سے زیادہ پنجاب میں پایا گیا جہاں 78 فیصد مقدمات، سندھ میں 14 فیصد خیبر پختونخوا میں 6 فیصد جبکہ سب سے کم مقدمات بلوچستان میں درج ہوئے جہاں ان مقدمات کی تعداد صرف 2 فیصد ہے جس کی بڑی وجہ ایسے واقعات کو رپورٹ ہی نہیں کیا جاتا۔
عورت فاؤنڈیشن کے مطابق پولیس کو رپورٹ ہونے والے مقدمات میں 93 فیصد میں ملزمان باعزت بری ہوگئے، جبکہ صرف سات فیصد مقدمات میں سزائیں ہوئیں۔
رپورٹ کے مطابق ناقص تفتیش، شواہد کو درست طریقے سے عدالت میں پیش نہ کرنا، اور متاثرہ خواتین کو ہی موردِ الزام ٹھہرانا ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے ملزمان بری ہوجاتے ہیں یا مقدمات عدالت سے باہر صلح کے ذریعے ختم کر دیے جاتے ہیں۔



