ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے کہا ہے کہ خطے کے ممالک نے اپنا حساب کتاب دیکھ لیا ہے۔
اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ خطے کےممالک سمجھتے تھے کہ امریکا کی خطےمیں موجودگی سے ان کو فائدہ ہو گا یہ سمجھتےتھے 3دن جنگ کریں گےاور ملک کا تختہ الٹ جائےگا، یہ سمجھتے تھے رہبرانقلاب اوت کمانڈروں کو شہید کر کے تختہ الٹ دیں گے۔
پزیشکیان کا کہنا تھا کہ تختہ الٹنے کےلیے جو انہوں نے سوچا ویسا نہ ہوا،یہ ان کی خیام خیالی تھی۔
قبل ازیں ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے حج اور عید الاضحیٰ کے موقع پر ایک پیغام جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل ’’یقیناً جڑ سے اکھاڑ دیا جانا چاہیے اور ایسا ہو کر رہے گا۔‘‘
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز کے مطابق انھوں نے اسرائیل کو ’’اس خطے کی ایک خطرناک اور مہلک سرطانی رسولی‘‘ قرار دیا۔ خامنہ ای نے کہا کہ ایران نے صہیونی حکومت کو اپنے تباہ کن حملوں کے تحت بے بس کر دیا، اس جنگ کے دوران جسے انھوں نے ’’دوسری مسلط کردہ جنگ‘‘ قرار دیا، اور اسے امریکا کے لیے ’’ایک سخت طمانچہ‘‘ کہا۔
سپریم لیڈر نے کہا کہ اس سال کے حج سیزن نے امریکا اور اسرائیل سے اظہارِ لاتعلقی کی دعوت کو مزید اہمیت دے دی ہے اور ’’مرگ بر امریکا‘‘ اور ’’مرگ بر اسرائیل‘‘ امتِ مسلمہ کے غالب نعرے بن جائیں گے۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے یہ بھی کہا کہ مستقبل امتِ مسلمہ اور نئی اسلامی تہذیب کا ہے۔



