spot_img

ذات صلة

جمع

نوجوانوں کے لیے ہنرمندی اور روزگار کے نئے مواقع

پشاور : نوجوانوں کے لیے ہنرمندی اور روزگار کے...

سفید اور دانے دار مکھن گھر میں بنانا نہایت آسان

گھر میں دہی سے مکھن تیار کرنا ایک پرانا...

امریکا آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا، امریکی وزیر جنگ

فلوریڈا : امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے کہا...

وزیراعظم شہباز شریف آئی ایم ایف سے بڑا ریلیف لینے میں کامیاب، ذرائع

اسلام آباد : وزیراعظم شہباز شریف عالمی مالیاتی فنڈ...

حملے میں زخمی حسینہ واجد کیخلاف طلبا تحریک کے رہنما عثمان ہادی انتقال کر گئے

انقلاب منچہ کے ترجمان شریف عثمان ہادی، جو گزشتہ جمعے کو ڈھاکا میں مسلح افراد کے حملے میں شدید زخمی ہوئے تھے سنگاپور کے جنرل اسپتال میں دوران علاج انتقال کر گئے۔

انقلاب منچا نے جمعرات کو فیس بک پوسٹ میں ان کی موت کی تصدیق کی۔ یہ خبر عثمان ہادی کے تصدیق شدہ فیس بک اکاؤنٹ کے ذریعے بھی شیئر کی گئی۔

شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خلاف طلبا تحریک کے اہم رہنما شریف عثمان ہادی گزشتہ دنوں قاتلانہ حملے میں زخمی ہوئے تھے ان کی حالت تشویشناک بتائی جارہی تھی۔

ڈھاکہ یونیورسٹی یونٹ آف انقلاب منچہ کے کنوینر سعید حسن نے میڈیا کو بتایا کہ عثمان ہادی کا انتقال بنگلا دیش کے وقت کے مطابق رات 9 بج کر 45 منٹ پر ہوا۔

نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے ہیلتھ سیل کے سربراہ اور ہادی کے معالج ڈاکٹر احد نے ایک ویڈیو پیغام میں اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ “ہمیں سنگاپور کے جنرل ہسپتال سے اطلاع ملی ہے کہ ہادی کا انتقال ہو گیا ہے۔”

سنگاپور کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ویوین بالاکرشنن نے شریف عثمان ہادی کی حالت کو انتہائی تشویشناک قرار دیا تھا۔ بالاکرشنن نے بدھ کی رات 9:40 بجے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس کو فون کیا اور انہیں ہادی کی صحت کے بارے میں بریف کیا۔

عثمان ہادی پر جمعے کو نقاب پوش افراد نے قریبی فاصلے سے فائرنگ کی تھی جس میں وہ شدید زخمی ہو گئے تھے اور انہیں طبی امداد کے لیے سنگاپور منتقل کیا گیا تھا۔

دوسری جانب ڈھاکا میں طلبا رہنما عثمان ہادی پر قاتلانہ حملے کے خلاف بھارتی ہائی کمیشن کی جانب احتجاج مارچ کیا گیا جس میں مظاہرین نے بھارتی ہائی کمیشن کے باہر لگی رکاوٹوں کو توڑ ڈیا۔ مظاہرین کا حملے میں ملوث افراد اور حسینہ واجد کی فوری حوالگی کا مطالبہ کیا۔

چیف ایڈوائزر نے عثمان ہادی کے لیے قومی سطح پر یومِ سوگ کا اعلان کر دیا۔ ڈاکٹر محمد یونس نے انقلاب منچہ کے ترجمان اور جولائی کی بغاوت کی سرکردہ شخصیت شریف عثمان ہادی کی موت کے بعد ہفتہ کو ایک روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

براہ راست نشریات کے دوران چیف ایڈوائزر نے ہادی کو ایک “نڈر نوجوان” اور “فسطائیت اور تسلط کے خلاف جدوجہد میں ایک لافانی سپاہی” قرار دیا۔

ان کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہادی کا انتقال ملک کے سیاسی اور جمہوری منظر نامے کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔

spot_imgspot_img