spot_img

ذات صلة

جمع

مارکیٹیں کتنے بجے بند ہوں گی؟

حکومت نے ایندھن کی بچت پالیسی کے تحت مزید...

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی پولیس اسٹیشن سے ٹکرا گئی

بنوں میں بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن...

بیرسٹر گوہر کے نام پر ہیکرز نے 5 لاکھ روپے لوٹ لیے

چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کے نام پر...

’موٹر سائیکل سواروں کے لیے 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی‘

وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے...

بچوں کا نام بگاڑنا یا خصوصی القاب سے پکارنا ان پر کیا اثر ڈالتا ہے؟

بچوں کا نام بگاڑنا، انھیں بُرے القاب سے پکارنا یا ان پر کسی طرح کا لیبل لگانا ان پر کیا اثرات مرتب کرتا ہے، ماہر صحت نے بتادیا۔

اے آر وائی کے پروگرام میں میزبان ندا یاس سے گفتگو کرتے ہوئے رابعہ رضوان نے کہا کہ ہمیں اس طرح کی صورتحال کافی بار دیکھنے کو ملتی ہے کہ جیسے کسی بچے کو کہا جائے کہ یہ سست ہے یا پھوہڑ بچہ ہے، بچوں کو فوراً کچھ بھی نام دے دیتے ہیں، یہ چیزیں دماغ میں بیٹھ جاتی ہیں۔

میزبان نے ان کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے یہ چیز ماں باپ ہی شروع کرتے ہیں اگر ان کے تین بچے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ بڑا تیز ہے، یہ سست ہے اور یہ سوتو ہے اور یہ تو کھانا ہی کھاتا رہتا ہے۔

رابعہ رضوان نے کہا کہ جب آپ کسی بچے کی خصوصیات کو اس طرح بیان کرتے ہیں تو آپ ایک طرح سے اس کا خاکہ بنادیتے ہیں، پھر یہ ہوتا ہے کہ بچہ باغی ہوجاتا ہے۔

یا تو دوسری صورت میں بچہ کہتا ہے کہ ہاں ٹھیک ہے اگر میں ایسا ہوں تو پھر میں ایسا ہی کروں گا، اگر مجھ سے چیزیں گرتی ہیں تو ٹھیک ہے میں تو ہوں ہی پھوہڑ میں ایسا ہی کروں گا۔

انھوں نے کہا کہ ہم جو بچوں پر لیبلنگ کرتے ہیں یہ درست نہیں، اگر بچہ پڑھنے میں یا کسی چیز میں تیز ہے تو ہم اس سے اپنی امیدیں بہت بڑھا لیتے ہیں یعنی یہ تو ہمیشہ اے پلس گریڈ لے کر آتا ہے۔

رابعہ نے کہا کہ اس سے بچے کے دل میں ڈر بیٹھ جاتا ہے کہ اگر میں اے گریڈ لے کر آگیا تو کیا ہوگا، تو ضروری ہے کہ بچوں پر لیبلنگ نہ کریں اور انھیں کسی چیز کےلیے اپنے کسی رویے سے مجبور نہ کریں۔

spot_imgspot_img