اسلام آباد (3 جون 2026): وفاقی حکومت بجٹ 27-2026 پر اپنی اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے تحفظات تاحال مکمل طور دور نہیں کر سکی۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان بجٹ پر اہم بیٹھک ہوئی جس میں دونوں کی بجٹ ٹیموں نے شرکت کی، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے خصوصی شرکت کی جبکہ نوید قمر اور شیری رحمان بھی اہم ملاقات میں موجود تھے۔
ذرائع نے بتایا کہ حکومتی ٹیم نے اتحادی جماعت کو آئندہ وفاقی بجٹ اور توسیع شدہ ترقیاتی بجٹ پر بریفنگ دی، دونوں نے مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق کیا، تاہم حکومت پیپلز پارٹی کے تحفظات مکمل طور دور نہیں کر سکی۔
ذرائع کے مطابق پی ایس ڈی پی کے بعض منصوبوں پر تحفظات بدستور برقرار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت اور پیپلز پارٹی میں وفاقی بجٹ کے حوالے سے پہلے بڑا رابطہ
واضح رہے کہ حکومت نے 5 جون کو بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ مؤخر کر دیا ہے جس کی ممکنہ وجہ پیپلز پارٹی سے مشاورت نہ ہونا ہے۔
اگلے مالی سال کا بجٹ جو 5 جون کو پیش کیا جانا تھا اب 10 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ وفاقی بجٹ کیلیے پی پی سے مشاورت نہ ہونا بتائی گئی ہے اور وفاق نے بلاول بھٹو سے مشاورت تک بجٹ پیش نہ کرنے کی اطلاع پیپلز پارٹی کو دے دی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو 5 جون تک گلگت بلتستان الیکشن مہم میں مصروف ہیں جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ بلاول بھٹو بجٹ کے روز قومی اسمبلی میں موجود ہوں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی بجٹ میں سندھ کیلیے کیا منصوبے ہوں گے تا حال یہ واضح نہیں ہو سکا ہے۔ بلاول بھٹو بھی الیکشن مہم میں مصروفیت کے باعث بجٹ پر حتمی فیصلہ نہیں کر سکے۔



